چالیس جواہر پارے — Page 100
100 کر اسے سونے کے طور پر پیش کیا جائے تو اسے عربی میں سحر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اسی طرح عربی میں اس چیز کو بھی سحر کہتے ہیں جس میں فریب کے طریق پر اخفاء اور راز داری کا رنگ اختیار کیا جائے۔اسلام ان سب باتوں کو ناجائز قرار دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں اخلاق پر نہایت برا اثر ڈالنے والی، عادات کو پیچیدہ بنانے والی اور آپس میں بد گمانی اور تفرقہ اور انشقاق پیدا کرنے والی ہیں اور عرف عام والے سحر کی ملمع سازی اور دھوکا دہی تو ظاہر وعیاں ہے جس کے متعلق کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔علاوہ ازیں سحر کے معنی فتنہ وفساد کے بھی ہیں اور اس صورت میں بھی سحر کی خرابی ایک بدیہی امر ہے اور اگلے فقرہ میں قتل کا ذکر اس مفہوم پر ایک عمدہ قرینہ ہے۔تیسری بات قتل ناحق بیان کی گئی ہے۔اسلام نے قتل کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے اور قتل عمد کی سزا موت مقرر کی گئی ہے جسے سوائے ایسی صورت کے بدلا نہیں جاسکتا کہ جب فریقین اصلاح کے خیال سے موت کی سزا کو دیت یعنی خون بہا کی صورت میں بدلنے پر رضامند ہو جائیں اور حاکم وقت بھی اسے منظور کرلے اور یہ رعایت اس حکمت کے ماتحت رکھی گئی ہے کہ تا اگر فریقین کے خاندانوں میں اصلاح کی حقیقی امید موجود ہو تو بلا وجہ قتل کی سزا پر زور دے کر دو خاندانوں کو انتقام در انتقام کے چکر میں نہ ڈالا جائے۔اور قتل کے ساتھ ناحق “ کی شرط اس لئے رکھی گئی ہے کہ تا جنگ میں قتل ہونے والوں یا حکومت کے قانون کے ماتحت قتل کی باضابطہ سزا پانے والوں کی استثناء قائم رہے۔قتل ناحق میں ایسے قتل بھی شامل ہیں جو بعض مغلوب الغضب افراد یا مذ ہی دیوانے کسی شخص کو بزعم خود قتل کی سزا کا مستحق سمجھ کر