چالیس جواہر پارے — Page 44
44 اسی طرح اگر عملی نگرانی یا قولی نصیحت نہ بھی ہو تو نیک لوگوں کی خاموش دعائیں بھی خاندانوں اور قوموں کی اصلاح میں بڑا کام کرتی ہیں۔پس اس حدیث میں آنحضرت صلی للی کم ان تینوں قسموں کے موجبات اصلاح کو حرکت میں لا کر مسلمانوں میں بدی کا رستہ بند کرنا اور نیکی کارستہ کھولنا چاہتے ہیں۔دنیا میں اکثر لوگ ایسے ست اور غافل اور بے پرواہ ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا کوئی عزیز یا دوست یا ہمسایہ بر ملا طور پر ایک خلاف اخلاق یا خلاف دین حرکت کرتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور یہ خیال کر کے کہ ہم کسی عزیز یا دوست کا دل میلا کیوں کریں یا ہم کسی سے جھگڑا مول کیوں لیں یا ہمیں دوسروں کے ذاتی اخلاق سے کیا سروکار ہے بالکل بے حرکت بیٹھے رہتے ہیں اور بدی ان کی آنکھوں کے سامنے جڑ پکڑتی اور پودے سے پیڑ اور پیڑ سے درخت بنتی چلی جاتی ہے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ جو آگ آج ان کے ہمسایہ کے گھر میں لگی ہے کل کو وہی وسیع ہو کر ان کے اپنے گھر کو بھی تباہ کر دے گی۔الغرض ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ تم نے کمال حکمت اور دور اندیشی سے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ تم اپنے ارد گرد بدی اور گناہ کی آگ دیکھ کر تماشہ بین بن کر نہ بیٹھے رہو بلکہ اولاً اپنے ہمسایہ کے گھر کو اور پھر خود اپنے گھر کو بھی اس آگ کی تباہی سے بچاؤ اور آپ نے اس تبلیغی اور تربیتی جد وجہد کو تین درجوں میں منقسم فرمایا ہے۔اوّل یہ کہ انسان کو اگر طاقت ہو تو بدی کو اپنے ہاتھ سے روک دے۔دوسرے یہ کہ اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو