چالیس جواہر پارے — Page 35
35 پر کھنے کے لئے خدا تعالیٰ عورتوں کے حسن اور مردوں کے مال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ ان دونوں کے دلوں اور دماغ کی طرف دیکھتا ہے جو انسانی خیالات اور جذبات کا مبد او منبع ہیں اور پھر ان کے اعمال کی طرف دیکھتا ہے جو ان خیالات اور جذبات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتے اس حدیث میں جو قلب کا لفظ بیان ہوا ہے اس سے دل اور دماغ دونوں مراد ہیں جنہیں انگریزی میں ہارٹ (Heart) اور مائنڈ (Mind) کہتے ہیں کیونکہ قلب کے لفظی معنی کسی نظام کے مرکزی نقطہ کے ہیں اور دل اور دماغ دونوں اپنے اپنے دائرہ میں جسمانی نظام کا مرکز ہیں۔دماغ ظاہری احساسات کا مرکز ہے اور دل روحانی جذبات کا مرکز ہے۔پس آنحضرت صلی ا ولم نے اس جگہ قلوب اور اعمال کا لفظ استعمال کر کے اشارہ فرمایا ہے کہ بے شک جسمانی حسن اور ظاہری مال و دولت بھی خدا کی نعمتیں ہیں اور انسان کو ان کی قدر کرنی چاہیے لیکن وہ چیز جس کی طرف خدا کی نظر ہے انسان کا قلب اور اس کے اعمال ہیں لہذاہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جمال و مال اور دنیا کی دوسری نعمتوں پر فخر کرنے کی بجائے اپنے دل و دماغ کی اصلاح اور اپنے اعمال کی درستی کی فکر کرے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ جو آنحضرت صلی لی یکم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کے قلب اور اس کے اعمال کی طرف دیکھتا ہے اس سے صرف یہی مراد نہیں کہ قیامت والے حساب کتاب میں انہی چیزوں کو وزن حاصل ہو گا بلکہ ان الفاظ میں یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اس دنیا میں بھی حقیقی وزن دل کے جذبات اور دماغ کے احساسات اور