چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 135

135 اثر رکھتا ہے۔لہذا آنحضرت صلی یک کمار شاد فرماتے ہیں کہ جب بھی تمہارے پاس کسی قوم یا پارٹی کا کوئی رئیس یا لیڈر آئے تو خواہ وہ کسی مذہب وملت کا ہو اس کے ساتھ واجبی احترام سے پیش آؤ اور اس کے خاطر خواہ اکرام میں ہر گز غفلت سے کام نہ لو۔اس زریں ہدایت میں مہمان نوازی اور حسن اخلاق اور حسن سیاست تینوں صفات حسنہ کا بہترین خمیر ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ کی کا ذاتی اسوہ یہ تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ نہایت درجہ سادہ مزاج تھے اور لباس اور خوراک میں کوئی تکلف کا پہلو نہیں تھا مگر آپ نے بیرونی قوموں کے وفدوں کے استقبال کے لئے خاص لباس رکھا ہوا تھا اور جب بھی کوئی وفد آتا تھا آپ اس خاص لباس کو پہن کر اس سے ملاقات فرماتے تھے تا کہ آپ باہر سے آنے والے مہمانوں کا واجبی اکرام کر سکیں اور آپ کو وفود کے اکرام کا اتنا خیال تھا کہ مرض الموت میں وصیت فرمائی کہ میرے پیچھے وفدوں کے اکرام میں کمی نہ آنے دینا۔ایک دفعہ ایک سفیر نے آپ کے روبرو نہایت گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔آپ نے فرمایا تم ایک قوم کے سفیر ہو کر آئے ہو اس لئے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا 2۔مکہ فتح ہوا تو آپ نے عام اعلان فرمایا کہ جو شخص مقابلہ سے دست کش ہو کر اپنے گھر کے اندر بیٹھا ر ہے گا اور دوسروں کے گھروں میں جا جا کر سازشوں کی سکیمیں نہیں سوچے گا وہ ہماری طرف سے امن میں ہے۔اس پر ابو سفیان رئیس مکہ نے کہا کہ میں قریش کا سردار ہوں میر اکچھ مخصوص اکرام بھی ہونا چاہیے۔آپ نے فرمایا۔1 : بخاری کتاب الجهاد باب هل يستشفع الى اهل الذمه؟ 2 : ابوداؤد كتاب الجهاد باب في الرسل