چالیس جواہر پارے — Page 131
131 اس کے علاوہ اسلام نے اعلیٰ اخلاق کے اظہار کے لئے کسی حق دار کے حق کو نظر انداز نہیں کیا۔خدا سے لے کر بندوں تک اور پھر بندوں میں بادشادہ سے لے کر ادنیٰ خادم تک ہر ایک کے بارے میں حسن خلق کی تاکید فرمائی ہے۔افسر ماتحت، باپ بیٹے ، خاوند بیوی، بہن بھائی ، ہمسایہ اجنبی، دوست دشمن، انسان حیوان ہر ایک کے حقوق مقرر فرمائے ہیں اور پھر ان حقوق کو بہترین صورت میں ادا کرنے کی ہدایت دی ہے اور کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے ملنے والوں کو مسکراتے ہوئے چہرہ سے مل کر ان کے دل کو خوش کرو تو یہ بھی تمہارا ایک نیک خلق ہو گا اور تمہیں خدا کے حضور ثواب کا مستحق بنائے گا اور دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں کہ رستہ چلتے ہوئے اگر کوئی کانٹے دار چیز یا پاؤں کو پھسلانے والا چھلکا یا ٹھو کر لگانے والا پتھر یا بد بو پیدا کرنے والی گندی چیز وغیرہ نظر آئے تو اسے رستہ سے ہٹا دو تا کہ تمہارا کوئی بھائی اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔خود آپ کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سوالی کو رد نہیں کیا۔کبھی کسی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے چھوڑنے میں پہل نہیں کی۔یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔بیواؤں کی دستگیری فرمائی۔ہمسایوں کو اپنے حسن سلوک سے گرویدہ کیا۔چھوٹے سے چھوٹے صحابی کی بیماری کا سنا تو اس کی عیادت کو تشریف لے گئے اور اس سے شفقت اور محبت کا 1 : ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء فی طلاقة الوجہ 2 : مسلم کتاب الزكاة باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف