چالیس جواہر پارے — Page 126
126 قلب ماہیت کا رنگ دے دیتی ہیں اور جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے یہ شرطیں تین ہیں۔(۱) یہ کہ توبہ کرنے والا اپنی غلطی اور گناہ پر سچے دل سے ندامت محسوس کرے اور صمیم قلب سے معافی اور مغفرت کا طالب ہو۔(۲) یہ کہ وہ آئندہ کے لئے اس غلطی اور گناہ سے مجتنب رہنے کا عہد کرے اور اس کے لئے خدا سے توفیق مانگے۔(۳) یہ کہ اگر اس کی غلطی اور گناہ کی عملی تلافی ممکن ہے تو وہ اس کی تلافی کرے مثلاً اگر اس نے کسی شخص کا مال غصب کیا ہوا ہے تو وہ اسے واپس کرے یا کسی کا حق دبایا ہوا ہے تو اسے بحال کرے۔ان شرائط کے ساتھ کون عقل مند انسان تو بہ کو قابل اعتراض خیال کر سکتا ہے ؟ حق یہ ہے کہ سچی توبہ ایک موت ہے جو انسان کو نئی زندگی بخشتی اور خدا کی رحمت اور شفقت اور مغفرت کا رستہ کھولتی ہے اور یہ صرف اسلام ہی ہے جو انسان کے لئے سچی توبہ کا دروازہ کھولتا ہے۔☆☆☆