چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 119 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 119

119 دیتی ہے حتی کہ بعض اوقات دنیا کے گندوں میں پھنسے ہوئے لوگ بھی جب علیحدہ بیٹھ کر اپنی حالت پر غور کرتے ہیں تو ان کی فطرت دنیا داری کے پردوں سے باہر آکر انہیں ملامت شروع کر دیتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ ﷺ کا یہ مبارک ارشاد جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے اسی فطری نور کی بنیاد پر قائم ہے۔فرماتے ہیں کہ عام اصولی امور میں ایک عقل مند منتقی انسان کے لئے کسی خارجی مفتی کی ضرورت نہیں کیونکہ خود اس کا اپنا دل اس کے لئے مفتی کی حیثیت رکھتا ہے۔اسے چاہیے کہ نیکی اور بدی کے متعلق اپنے دل سے فتویٰ پوچھے اور اپنے ضمیر کے نور سے روشنی کا طالب ہو کیونکہ نیکی دل میں شرح صدر اور تسکین اور اطمینان کی کیفیت پیدا کرتی ہے اور بدی سینہ میں کھٹکتی اور دل میں چھتی اور نفس پر ایک بوجھ بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ایسی صورت میں دوسروں کے فتووں سے جھوٹا سہارا تلاش کرنا بے سود ہے بلکہ انسان کو اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھر نا چاہیے اور اگر کسی بات پر ضمیر رکتا اور دل کی تنگی محسوس کرتا ہے تو انسان کو چاہیے کہ مفتیوں کے فتوے کے باوجود ایسے کام سے رک جائے اور نور ضمیر کے فتویٰ کو قبول کرے جو خالق فطرت کی پیدا کی ہوئی ہدایت ہے۔لیکن جیسا کہ آنحضرت صلی الل ہم نے استفت نَفْسَكَ (اپنے نفس سے فتویٰ پوچھ ) کے الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے ضروری ہے کہ دل کا فتویٰ لینے کے لئے انسان دوسروں سے علیحدہ ہو کر خلوت میں سوچے اور تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اپنے دل کا فتویٰ لے ورنہ دوسروں کی رائے اس کی ضمیر پر غالب آکر اس کی شمع فطرت پر پردہ ڈال دے گی لیکن اگر وہ علیحدگی میں بیٹھ کر اور تمام خارجی اثرات سے الگ ہو کر اپنے دل سے فتویٰ پوچھے گا تو اس کے دل کی فطری روشنی