چالیس جواہر پارے — Page 118
118 28 جو بات دل میں کھٹکے اس سے اجتناب کرو عن وايضةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُول الله صلى الله عَليْهِ وَسَلَّم۔۔۔يَقُولُ: يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَاطْمَأَنَّتُ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي الْقَلْبِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ (مسند احمد بن حنبل ، حديث وابصة بن معبد الاسدی، جلد 7 صفحه 423) ترجمہ: وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم فرماتے تھے کہ اپنے نفس سے فتوی لو۔نیکی وہ ہے جس پر تمہارا دل تسکین محسوس کرے اور تمہارا نفس اطمینان پا جائے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے نفس میں کھٹکے اور تمہارے سینے میں تنگی پیدا کرے خواہ دوسرے لوگ تمہیں اس کے جائز ہونے کا فتویٰ ہی دیں۔تشریح: آنحضرت صلی علی علم کا ارشاد اس ابدی صداقت پر مبنی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو خالق فطرت ہے ہر انسان کو پاک فطرت عطا کی ہے اور یہ صرف بعد کے حالات ہیں جو اسے غلط رستہ پر ڈال کر اس کی پاک فطرت کو ناپاک پردوں میں چھپا دیتے ہیں لیکن پھر بھی فطرت کی نیکی اور ضمیر کی روشنی بالکل مردہ نہیں ہوتی اور زندگی بھر انسان کے لئے شمع ہدایت کا کام