چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 113 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 113

113 کے مقابلہ میں پست اور ادنی سمجھنے لگتا ہے اور پھر ذہنی غلامی میں مبتلا ہو کر اس قوم کی اندھی تقلید شروع کر دیتا ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسا شخص دراصل اسی قوم میں سے سمجھا جائے گا جس کی مشابہت وہ اختیار کرتا ہے۔لہذا اس لطیف حدیث کے ذریعہ آنحضرت صلی الله علم نے مسلمانوں کو ہوشیار فرمایا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری قوم کے طریق و تمدن کے نقال نہ بنیں بلکہ اسلام کے تمدن کو سارے دوسرے تمدنوں سے بہتر اور ارفع خیال کر کے اسلامی شعار اختیار کریں ورنہ وہ ایک بد ترین قسم کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو کر اپنی ممتاز ہستی اور اپنی ارفع انفرادیت کو کھو بیٹھیں گے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ذہنی غلامی ظاہری غلامی سے بھی بد تر چیز ہے۔ایک ظاہری غلام بے شک دوسرے شخص کا مملوک ہو تا ہے مگر باوجو د اس کے ،اس کے دل و دماغ آزاد ہوتے ہیں لیکن ذہنی غلامی میں مبتلا ہونے والا شخص بظاہر آزاد ہونے کے باوجود اپنے دل و دماغ کی ساری آزادی کھو بیٹھتا ہے اور اس کے اعمال اس بندر کے اعمال سے بہتر نہیں ہوتے جو محض نقالی جانتا اور دوسروں کے نچانے پر ناچتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اپنے آقا صلی الی یم کی اس حکیمانہ تعلیم کے باوجود آج کل کے مسلمانوں نے مغربی ممالک کی بدترین غلامی اختیار کررکھی ہے۔ہندوستان میں انگریز آیا تو مسلمانوں کے ایک معتدبہ حصے نے اس کی تہذیب و تمدن کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کے رنگ میں رنگین ہو نا شروع کر دیا۔مسلمانوں کی ڈاڑھیاں غائب ہو گئیں۔ان کے لباس کوٹ پتلون اور ٹائی کالر کے سامنے پسپا ہو گئے۔ان کی دعوتوں میں شراب کے جام چلنے لگے اور ان