چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 111

111 میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور آپ نے حکم دیا کہ اگر تمہارے مال میں کوئی نقص ہے تو اس نقص کو ظاہر کرو اور پھر بیچو تاکہ تمہارا خریدار نقص کو مد نظر رکھ کر قیمت کا فیصلہ کر سکے۔آپ کی اس انتہائی تاکید کا یہ نتیجہ تھا کہ بعض اوقات صحابہ میں اس قسم کا دلچسپ اختلاف ہو جاتا ہے کہ مثلاً بیچنے والا اپنے مال کی قیمت دو سو روپیہ بتاتا تھا مگر خریدار کو اصرار ہو تا تھا کہ نہیں یہ مال تو تین سو روپے کا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل کئی مسلمان کہلانے والے لوگ تجارت میں بے دریغ دھوکا کرتے ، قسمیں کھا کھا کر جھوٹ بولتے اور کھانے پینے کی چیزوں میں اس طرح ملاوٹ ملاتے ہیں کہ شاید شیطان بھی شرم سے منہ چھپاتا ہو گا بلکہ بعض مسلمان تو حج بھی صرف اس خیال سے کرتے ہیں کہ حاجی کہلانے سے ان کی تجارت کو زیادہ فروغ حاصل ہو جائے گا۔میں ہر گز یہ نہیں کہتا کہ سب ایسے ہیں لیکن جہاں قوم کا ایک معتد بہ حصہ اس قسم کی اخلاقی پستی میں مبتلا ہو وہاں ایسی قوم بدنامی کے داغ سے ہر گز بچ نہیں سکتی اور بہر حال ہمارے مقدس رسول (فداہ نفسی) کا سچا متبع وہی سمجھا جاسکتا ہے جو آپ کے حکم کو مان کر ہر قسم کے دھوکے اور فریب سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے ورنہ وہ اس وعید کی زد سے بچ نہیں سکتا کہ مَنْ غَشّ فَلَيْسَ مِلی۔