چالیس جواہر پارے — Page 90
90 ص کو لازما خود بھی اچھا بنا پڑے گا۔ورنہ شب و روز ملنے والوں کے ساتھ تکلف کا پیراہن زیادہ دیر تک چاک ہونے سے بچ نہیں سکتا۔اسی طرح اس حدیث کے وسیع معنوں کے مطابق قوموں اور ملکوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ حتی الوسع اپنی ہمسایہ قوموں اور ملکوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کے ساتھ احسان اور تعاون کا معاملہ کریں کیونکہ جس طرح ایک فرد اخلاق کے قانون کے ماتحت ہے اسی طرح قومیں بھی اس قانون کے ماتحت ہیں اور حق یہ ہے کہ دنیا میں امن تبھی قائم ہو سکتا ہے کہ جب قومیں اور حکومتیں بھی اپنے آپ کو اخلاق کے قانون کا کار بند سمجھیں۔