بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 17

طبی سوانحمری انسان اپنے نابت مطلوب تک تو نہیں پوچتا حکیم اللہ دین لاہوری مرحوم اور حکیم محمد بخش لاموری مرحوم سے کسی قدر موجبہ تو میں پڑھ ہی چکا تھا اور علمی مباحثات کے لئے میری پہلی تعلیم کافی سے بھی کس قدر نہ یادہ تھی میں نے عرض کیا کہ قانون شروع کر اند و اس پر حکیم صاحب - اب دیا کہ میں تو خدا کی کتاب بھی سمجھ سکتا ہوں اور بو علی ستیا یا اس کا قانون کیا اس سے بڑے ہیم صاحب نے نفیسی کی طرف اور اس کے علمی حصہ پر مجھے مجبور کیا۔اور میں نے کتاب شروع کر دی ایک ہی سبق تمام دن میں میرے لئے ہر گز قابل برداشت نہ تھا۔اور میں نے بہت کوشش کی کہ کہیں کوئی اور سبق پڑھوں مگر وہابیت کا خدا بھلا کرے اس نے کوئی جگہ پسند کرنے نہ دی پھر بھی مولوی نصرت الله نام فرنگی محلی ہے میری شفارش ہوئی اور انہوں نے ملا حسن یا حمد اللہ پڑھانے کا وعدہ کیا اور شروع کرا دی میں نے چند سیتی سہی پڑھے ہونگے جو میں تنہائی میں اپنی گذشتہ عمر کا مطالعہ شروع کیا اور اس بات تک پہونچ گیا کہ اگر اسی طرح پڑھے گا قران علوم سے متمتع ہونے کے تجھے کب وق ملیں گے اور میرے دل نے فیصلہ کر لیا کہ اگر چھے سات سبق ہر روز نہ ہوں تو پڑھنا گو یا عمر کو ضائع کرنا ہے عرض اس فیصلہ کے بعد حکیم چی کے حضور صرف اس لئے گیا کہ آج میں اُن سے رخصت ہو کہ واپس رام پور جاونگا لیکن خداوندی قدرت کے کیا تماشے ہیں کہ میرے اس اور جیٹرین کے وقت حکیم جی کے نام نواب کلب علی خان نواب رام پور کا نامہ آیا تھا کہ آپ ملازمت اختیا ر کر لیں اور ایک علی بخش نام ان کے چاہتے خدمت گار علیل ہیں۔ان کا آکر علاج کریں دوپہر کے بعد ظہر کی نما نہ پڑھ کر میں وہاں حاضر ہوا اور میں نے اپنے مشاء کا اظہار کر کے عرض کیا۔کہ اب میں رام پور جانا چاہتا تو آپ نے فرمایا تم یہ بتلاؤ میرے جیسے آدمی کو ملازمت اچھی ہے یا آزادی سے علاج کرنا۔چار سو روپے کے قریب ہمیں شہر میں آمدنی ہوتی ہے کیا اس آمدنی کو چھوڑ کر ملازمت اختیار کریں تمہارے خیال میں یہ پہلی بات ہے میں نے عرض کیا کہ نوکری آپ کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالت میں اگر آپ کے حضور کوئی شخص اپنے پہلو یا سرین کو کھجکتے لگے تو آپ کے دل میں اور دماغ میں یہی گزرے گا کہ یہ کچھ دینے لگا ہے اس پر وہ بہت قہقہ مار کر ہے اور اللہ تعالے نے آپ کے دل میں ڈال دیا کہ یہ بھی اس شخص کے تصرفات کی کوئی بات ہے غرض ہماری ولایت کا وہاں سکہ بیٹھے گیا پھر وہ نار کالا اور کہا گیا یہ آپ کے رام پور جانے کی ترکیب نہیں اچھا ہم منظور کرتے ہیں اور آپ ہمارے ساتھ چلیں غرض معا ام ہو کر واپس آنے کی شادی ہو گئی رام پور پہونچنے کے پہلے یا رام پورمیں حکیم جی نے تجھے کہا کہ اس شخص کی صنعت کے لیے تم دعا کہ میں نے کیا یہ بہتا نظر نہیں ، اور مجھے اس کئے تھے دعا کی طرف توجہ نہیں نبشی اور بدون توجہ دعا نا نہیں ہو سکتی یہ ہے یا مرے تم را میں پہنچ گئے ہیں۔آخر علی بخش صاحب بالعالیہ کا انتقال ہو گیا رحمتہ اللہ حکیم صاحب نے تجھے فرمایا کہ اس کے مرنے پر نماز کے شہر کے حکیم ابراہیم صاحب ہیں ان کو دربار میں تیر نیسی کا موقع ملا ہے میں خدا کی نہی کا اقرار کرتا ہوں میرے منہ سے بیساختہ نکلا کہ اس مریض جیسا کوئی ان کے ہاتھ سے بھی مر رہے گا۔آپ کیوں گھراتے ہیں قدرت الہی کو دیکھو نہ گمان نہ خیال علی بخش کے بالمقابل ایک دو سرا خدمتگار تو اب کا اسی بیماری میں گرفتار ہوا اور حکیم ابراہیم صاحب لکھنوی اس مریض کے معالج جو یہ ہوئے مریض کو درم کبد بھی تھی ایک دن اس کے منہ سے منون آیا۔معالج حکیم صاحب نے فرمایا کہ یہ بحرانی خون ہے اور اب ہم کو اس کی صحت کی بہت امید ہے ہمارے حکیم صاحب نے آکر یہی بات کی اور میں نے عرض کیا کہ اب یہ مرگیا ہے خدا کے عجائبات ہیں انسان کی کیا مقدرہتا ہے کہ وہ مریض مرگیا را