بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 16

د --صف طبی سد المعمر می کہ آپ تو یا دشاہ کی مجلس میں رہے میں کبھی ایسی ترک آپ نے اٹھائی ہے اور تھوڑے وقفہ کے بعد مجھے کہا کہ یا آپ کا کیا کام ہے میں نے عرض کیا کہ میں پڑھنے کے لئے آیا ہوں اس پر آپنے فرمایا اب میں بڑھا ہو گیا ہوں اور پڑھانے سے مجھے ایک انقباض سے میں خود نہیں پڑھا سکا میں نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں پڑھا و نگا میری طبیعت ان دونوں میں بہت ہو تی تھی اور یہ ہر کا بقیہ بھی ہو اور حق تو یہ ہے کہ خدا کے ہی کام ہوتے ہیں منشی قاسم صاحب کی فارسی نہ تعلیم نے یہ تحریک کی کہ میں نے جوش بھرے اور دردمند آواز سے کہا کہ شیرازی شاعر نے بہت ہی غلط کیا ہو کہا۔رنجانیدن دل جهل است و کفار میں سہیل۔اس پر ان کو دوبارہ و جار ہوا اور جیتیم ہے آب ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے پر و بہت آس بعد فرمایا کہ مولوی تور کیریم حکیم ہے اور بہت لائق ہیں۔میں آپ کو ان کے سپرد کر زورگا اور وہ آپ کو اچھی طرح پڑھائیں گے بھی پر میں نے عرض کیا کہ اسے ملک خدا تنگ نگ نیست - و پاسے گرا تنگ نیست تب آپ کو تیسری دفعہ وجد مرا اور فرمایا ہم نے قسم کو توڑ دیا اس کے بعد حکیم صاحب تو گھر کو تشریف لے گے اور وہ لوگ جو مختلف اغراض اور بیماروں گئے آئے تھے اپنی اپنی جگہ چلے گئے ہیں نے بھی تنہائی کو عظمت سمجھ کر اپنا بو را با ندھیا سنبھالا۔اور اس مکان سے باہر نکلا میرے بھائی صاحب کے دوست علی بخش خان مرحوم مطبع علومی لکھنو کے مالک تھے میں ان کے مکان پر پہونچا۔وہاں میں نے بڑا آرام پایا اور غسل کیا اور کپڑے بدلے خاں صاحب نے ایک انار کا لطیف پڑھ کھلایا۔جو ان کے مطبع والے دکان میں تھا اور فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی کی یادگار ہے وہاں آرام پا کر میں مختلف علماء کو جو لکھنو میں تھے ملا۔اور عجیب باتیں سنتے ہیں آئیں ان کا موقع ہے خاصہ نہیں جس کو میں نے آپ کی خاطر لکھا ہے۔آخر علی بخش خاں نے مجھے ایک مکان دیا اور وہاں کھانے کا انتظام سمجھے خود کرنا پڑا جیسے میں کہ چکا ہوں شعریہ کے لئے میرے باغ میں کوئی بناوٹ نہیں ہم اپنی روٹی پکانے کے لیے ایک منطق سے کام لینے لگے پو ٹھے میں پاگ جلائی توار کھا اور روٹی کو گول نیا تے کی یہ ترکیب سو تھی کہ آٹے کو بہت نرم گھول دیا اور ایک برتن کے ذریعہ اس گرم توے پر ہلا گھی اور خشکہ کے خوبصورت دائرہ کی طرح آٹا ڈال دیا۔جب اس کا نصف حصہ پک گیا اٹھانے کی فضول کوششیں کیں اور ان کوششوں میں روٹی ابھیر تک پک چکی تھی خیالی فلسفہ نے توے کو اونا رہ کر اگ کے سامنے رکھوایا جب عمدہ طور پر اوپر کا حصہ بختہ نظر آیا تو اتو سے آثار نے کی مصری۔مگر جاتو سے بھی اتر تے سے اس نے انکار کیا اور مجھے دعا کی توفیق علی کہ میں اس مکان سے باہر نکل کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر یوں مانگنے لگا اسے کور پر مولا ایک نادان کو کام میپرد کرنا اپنے بنائے ہوئے رزق کو ضائع کرنا نہیں تو کیس لایق سے جس کے پیر د روٹی کہ کو بیان کیا گیا۔تم اس روٹی کے انتظام اور دعا کے بعد حکیم صاحب کے حضور پر تکلف لباس میں جا پہونچے جاتے ہی اپنی دعا کی قبولیت کا یہ اثر دیکھا کہ حکیم صاحب نے فرمایا۔آپ اُس دن آئے اور بے اجازت چلے گئے۔شاگردوں کا کام ہے آئندہ تم روٹی ہمارے ساتھ کھایا کرو اور نہیں رہو یا جہاں ٹھرے مودیاں رہو۔مگر روٹی یہاں کھایا کرو میں نے کچھ عدر معد رت کی پھر آپ نے فرمایا۔کیا پڑھنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا طب پڑھنا چاہتا ہوں مجھے تو اس وقت اطلاع بھی نہ تھی۔کہ دنیا میں بڑا طبیب ہوا کون سے تعلیم چی نے فرمایا کہاں تک طلب پڑھنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا افلاطون کے برابہ مجھے خبر بھی نہ تھی کہ افلاطون کو ئی حکیم - آپ نے ہنس کر فرمایا کہ کچھ تو رو رہی پڑھ لو گے۔اگر کسی چھوٹے کا نام لیتے تو میرے دل کو بہت صدمہ پہنچتا۔کیونکہ سر ایک