بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 63

حصہانوں مجربات قمر الدین ڈالا میرے ایک دوست نے گولی کھائی قریب بناکت تورا اخر زیر نکالاگیا وہ محمد اللہ اچھا ہو گیا میں نے یہی کوئی اصل تعقیدہ ور پر عراق میں دی تین تین کر نہ زہ میں مزیل عراق ہو گئی۔کو میشم - عصب - شہریان، نشانہ درید اور تم سے مرکب ہے نام چشم ہو کسی ہڈیوں سے مرکب ہے عضلات کے وسیلہ سے آنکھ اس میں متحرک ہے سامنے جو سفیدی میں بڑا سیاہ حلقہ نورا ر ہے اس کا نام قرینہ ہے اصل میں یہ شفاف اور بیرنگ ہے اس کی پشت پر جو سیا ہی ہے وہ دوسرے پورے خلیہ کی ہے جو شل قلمی شیشہ کے ہے قمر ینہ پیر اسی وجہ سے عکس کا قیام ہے اس کے پھیلے پر وہ میں ایک سوراخ ہے اس کو عوام قتل کہتے ہیں شمیہ قریہ کی گذرگاہ کا مقام ہے قدرت سے اس سوراخ کے گرد تو کسی مثل شعاع آفتاب اند میرے اور آجائے میں انقباض اور انبساط کے واسطے واقع ہوتے ہیں تا کہ دماغ روشنی کی کثرت کے صدمہ سے محفوظ رہے خدا تعالے کی قدرت کا ملاحظہ کرو۔کہ ایسی چھوٹی سی وسعت میں کس قدر دیکھ بھال سے بقول شخصے دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیت آسمان آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا۔طب جدید کے رو سے آنکھ میں تین طبقات اور تین رطوبات اور دو خانہ ہیں۔پرانے اطبا نے سات پردہ اور تین رطوبتیں اس طرح پر گردانی ہیں اول طبقہ میں حلقہ برنگ سفید اس میں قرینہ سینگ شفاف جو ظاہرا سیاه معلوم ہوتا ہے واقع ہے دوسرے طبقہ میں پر وہ عین عنکبوتی ہے اصل میں ایک ہی یہ وہ گئے تو کش اور پاس پاس ہیں یہی دوسرا پر وہ علیہ نامی مختلف اصول کسی میں سیاہ کسی میں کنجی ہوتا ہے اس کے پورہ عنکبوینہ سے ایک وسعت دو خانہ ہوئی چنانچہ ماننے والے خانہ میں رطوبت بیضہ اور پچھلے خانہ میں رطوبت طلبید یہ ہے جس کے پیچھے تیری رطوبت نہ خاجیہ لگی ہوتی ہے تیسرا طبق صلیہ ہے یہ عصب نورانی کے پھیلا در کیسے بنا ہے اور سب سے اندر دو طبق توڑ کر عصب مجون مہر کر یہ پردہ بناتا ہے۔