بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 18

جی سعد الحعمری اور خوض معاوضه گله ندا اور تحکیم ابراہیم صاحب آئندہ سحر سے باز آگئے یہاں میں دو بوگی میں حضرت حکیم صاحب کے حضور میں حاضر رہا اور بمشکل قانون کا عملی حصہ ختم کیا۔اور میں حصول سند و اجازت رخصت مانگی کہ اب میں عربی کی تکمیل کے لئے اس حدیث پڑھنے کو کہیں جاتا ہوں آپکے بجھے میرٹھ اور روہلی جانے کا مشورہ دیا اور نہایت محنت سے فرمایا کہ معقول خرچ ان دونوں شہروں تمہیں بھیجا کریں گے مگر جب میں میرٹھ پہنچا تو حافظ احمد علی صاحب کلکتہ کو چلے گئے تھے اور مولوی تذکر حسین مجاہدین کے روپیہ پہنچانے کے مقدمہ میں ماخوذ تھے ان دونوں سے ایک حرف پڑھنا بھی نصیب نہ ہوا اگر چہ پھر آخر میں ایک وقت میں نے حافظ احمد علی صاحب سہارنپوری سے بہت کچھ استفادہ کیا مگر وہ طالب علمی کا وقت نہ تھا اور میں بھوپال پہنچ گیا۔طب کے پڑھتے ہیں مجھے جو امر بہت نافع نظر آیا اور میں نے خود عمل کیا اور جس میں نے بہت فائدہ اٹھایا اس کو بیان کر ناشاید مفید موسو اس میں پہلی بات یہ ہے کہ میں نے مفرد اور مرکب ادویہ کے متعلق ہو بہت دنوں تک حضرت حکیم صاحب سے کبھی بھی سوال نہ کیا کہ یہ مرکب کس طرح بنتا ہے یا اس مفروہ کا کیا نام ہے بات یہ تھی کہ اگر وہ نام نہا سے تو صرف لکھنو کا مروج نام فرماتے اور وہ میرے لئے اپنے وطن میں کچھ بھی مفیدنہ ہوتا۔اور مرکبات کے واسطے میں یقین کر تا تھا کہ قرابا دنیات کا مطالع کافی ہوگا اس پہ آخر حکیم صاحب نے مجھ سے سنکھیا جس کو کرتا پہ سم الفار اور شک کہتے ہیں اور سُرخ مرچ کے تنفق سوال فرمایا کہ تم اس کو مفردات سے کس طرح نکالو گے سر میرے ہیتہ میں ممکن تھا کہ ایک پہاڑ بنا کہ میں آئندہ دواؤں کے نام پوچھ لیتا مگر میں نے خیال کیا کہ ایک ایک دوا کے مہیں میں نام سوتے ہیں خود حکیم صاحب ہی مجھے کب بنا سکتے ہیں اور میں نے اپنے مطالعہ کی عادت کے باعث جلد اس کا جواب حاصل کر لیا جیس پرده خود مطمین ہو گئے۔دوسری بات نسخہ نویسی کے متعلق تھی وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے نسخہ لکھا کروں اور مجھے مطلوب تھا کہ میں علم پڑھوں میں وقت میں بیماروں کی گھمسان دیکھتا میں اپنے دوسرے اساتذہ کے پاس اور علوم کے واسطے چلا جاتا ہے کیونکہ حکیم صاحب کے پاس صبح سے عشاء تک اپنا ضروری سبق بھی بمشکل ختم ہو سکتا تھا اس میرے ایک اس پر ایک دن ایک مزمن ما تشہیرہ کا ہیشا ہمارے آیا اور اس کا سر اس قدر میڈیا ہو گیا تھا جیسے ایک ہاتھی کا اور اس کے سونٹوں اور آنکھ کی شکل بھی بڑی بھیانک تھی میں اس نظارہ سے دو تین روز پہلے ہی یہ مرض پڑھ چکا تھا مگر مریض کو دیکھ کر سمجھ نہ آیا کہ یہ معاشرہ ہے اور حکیم صاحب نے فرمایا کہ اس کا نسخہ لکھو اس پر میں سخت گھرایا آخر میرے پاس نو دعا ہی ہتھار تھا مگا حکیم صاحب نے بیساختہ فرمایا کہ ایسے معاشرہ دنیا میں دیکھنے میں کم آتے ہیں تب میں نے عرض کیا کہ اس مریض کو دیکھنے میں بہت جمگٹھا ہو گیا ہے یہ اس کو مکان پر لے جاویں اور پھر اگر نسخہ لے جاویں اس طرح وقت کو ٹال دیا اور خود اپنے کمرہ میں جاکر علیکم صاحب کے زیر نظر کتابیں شرح گیلانی قانون پر اور ترویج الارواح اور طیری اور مجموعہ باقی کو دیکھنا شروع کیا اور ان تمام کتابوں سے ایک مشترک نسخہ ضمار اور طلاوہ کھانے کا لک لیا اور کتا میں اپنی اپنی جگہ پر رکھ دیں اور نسخہ قریبا یا د کر لیے تیمار دار دیر کے بعد آیا اور حکیم صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ نے نسخہ لکھا ہے میں نے کہا کہ ابھی لکھ دنیا ہوں اور میں نے قلم اٹھا کر چند ایک نسخہ لکھ دیے اور حکیم صاحب کے حضور پیش کیے آپ نے ان کو دیکھ کر مجھے ار شابه کیا که شرح گیلانی اور ترویج او مجموعہ تعالی کار میں لایا اور میرے نسخہ کو مد نظر رکھ کر سرسری نظیر ان کتابوں پر ڈالی لی اور نسخہ تیمار دار کو دیدیئے جب فراغت ہوئی تو مجھے اپنا بیاض بڑی محبت سے عطا کیا اور فرمایا تم اس کے اہل ہے دیگر آپ حرم سرائے میں تشریف لے گئے میں نے دیکھا کہ اس میں کچھ نسخہ تھے میں اپنی کم علمی سے اس سے استفادہ