بیاضِ نورالدّین — Page 15
طبی سوانحصری طالب علم کی ترغیب سے مندوستان کو چو گیا اور تمام رام پور میں کھنڈ پڑھنا اختیار کیا۔وہاں مجھے بہت سی عیش و آرام تھا اور ایک شخص حافظ عبدالحق پنجابی تاجر مجھ پر بڑے مہربان تھے لیکن مصیبت یہ بڑی کہ میرا را سبق رات کو یا رو پہر کو بہت دور ایک مقام پر مرنا تھا ان شب بیداریوں نے مجھے بیمار کر دیا اور مجھے شہر کا مرض لاعتق حال سے گیا۔بھی سنتے ہیں بہت سی تنگ ہو گیا۔میں نے وہاں تحقیقات کی کہ اجکل ہندوستان میں عالم طبیب کون ہے تو اس محمدونہ جماعت میں سوائے حکیم علی حسین لکھوی کے کسی کا نام نہ بنا۔مگر سب نے یہ بھی کہا کہ ان کے ہاتھ میں شفا نہیں اور مجھے بہت جلد معلوم ہو گیا کہ ان کے پاس مسول اور مدقوق مجرم اور قربا بیطیس کے گرفتار سہی اکثر پہونچتے ہیں سو ایسے بیماروں نہیں کامیابی کی کمی کوئی ان کے نقص کا موجب نہیں بیماری نے تو لا چار ہی کر رکھا تھا مگر میں رام پور سے مراد آبا و چلا گیا اور ایک خدا کا بندہ عبد الرشد نام ساکن نباری مجھے ایک اسماعیل نام پنجانی نوجوان تاجر کے ذریعے ملا جس نے میری خدمت والدین کے قریب قریب کی اور میں حسینہ ڈیڑھ مہینہ میں اچھا ہو گیا عمدہ صحت کے بعد میں نے لکھنو کا قصد کیا میرے مکرم دوست عبدالرحمن خان مالک مطبع نظامی میرے بھائی کے دوست تھے ان کے پاس کا نور میں ٹھہرا اور انہوں نے حکیم صاحب کی بہت تعریف کی اور درسکردن گاڑی میں سوار کر کے لکھو روا نہ کیا کچی سٹرک اور گرمی کا موسم اور گردو غبار نے مجھے خاک آلودہ کر دیا تھا کہمیں لکھو پہنچا جہاں وہ گاڑی ٹھری تھی اتر تے ہی میں نے حکیم کا پتہ پوچھا۔خدائی عجائبات میں کہ جہاں گاڑی ٹھہری تھی اس کے سامنے ہی فلیم جی کا مکان تھا۔یہاں ایک پنجابی مثل یاد کرنے کے قابل ہے مل کرے اولیاں رب کر کے سولیاں میں اسی وحشیانہ حالت میں مکان میں جا گھٹنا ایک بڑا ہال نظر آیا اور اس میں یہ ایک فرشتہ خصلت دیر با حسین سفید ریش نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک گدیلے پر چار زانو بیٹھا ہوا پیچھے اس کے ایک نہایت نفیس تکیہ اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے تکیہ اور سامنے پانداں اور یا گالدان خاصدان قلم اور ورات کا غذ دیرے ہوئے ہیں اور بال کے کنارے کنا رے جیسا کوئی انتجات میں بیٹھا سے بڑے خوشنما چہرے قرینے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے اور نہایت براقی چاندنی کا فرش اس ہال میں تھا وہ تقیہ دیوار میں دیکھ کر حیران سارہ گیا۔کیونکہ پنجاب ہیں کبھی ایسا نظارہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ہر حال اس کے مشرقی دروازہ سے میں نے اپنا بستہ اس دروازہ ہی نہیں رکھ کر حضرت حکیم صاحب کی طرف جانے کا قصد کیا۔تمام گرد آلود پاؤں جب اس چاندنی پر پڑے تو اس نقش و نگار سے میں خود سی محجوب ہو گیا۔اور حکیم صاحب تک بے تکلف چاپہونچا۔اور وہاں اپنی عادت کے مطابق زور سے اسلام علیکم کہہ دیا جو لکھنو میں ایک ترالی آواز تھی یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔کہ حکیم چی نے وعلیکم السلام زور سے یا دیے کہا مع مگر میرے ہاتھ بڑھانے سے انہوں نے ضرور ہی ہاتھ بڑھایا اور خاکسار ہند کے خاک آلودہ ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آلو وہ کیسے اور میں روزانو بیٹھ گیا۔یہ ہمارا روزا تو بیٹھنا بھی اس چاندنی کے لئے تھیں عجیب نظارہ کا موجب سودا وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اراکین لکھنور نے اراکین لکھنو سے تھا اس وقت مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ کس مذہب ملک سے تشریف لائے ہیں ہیں تومیں اپنے قصور کا پہلے ہی فائل کو چکا تھا۔مگر خدا شریه انگیر کی خیر نے مادران باشد میں نے نیم نگاہ سے اپنے جوانی کی ترنگ میں اس کو یہ جواب دیا کہ یہ نے تکلیفیاں اور السلام علیکم کی لیے تکلیف آواز دا دی تغیر دی ذرع کے اخی اور بکریوں کے چرواہے کی تعلیم کا نیتجہ سے صلی اللہ علیہ وسلم قداہ امی والی اس میرے کہنے کی آواز نے بجلی کا کام دیا اور حکیم صاحب پہ وحید طاری ہوا اور وعید کی حالت میں اس امیر کو کہا أ