بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 407 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 407

مجربات فور دین مبتلا ئے جاتے ہیں۔حصہ دوم اسباب - اصل سبب اسکا تو ڈاکٹر لوگ چھوٹ بتلاتے ہیں۔جو مریض دست وقتے میں ہوتی ہے۔اور جو بذریعہ پانی دودھ اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں سے تندرست جسم میں داخل ہو کر باعث ظہور مرمتی کا ہوتے ہیں۔یہ دوست اور تے کا مادہ بہتر اور کپڑوں سے لگ کر ایک مدت تک اس مرمن کے نہر کو قائم رکھ سکتا ہے۔(ملاحظہ ہو۔بیا من نور دین ) جلد اول فا مکہ کا نہ نازک مزاج ، حنیفہ کمزور ڈرپوک اشخاص اور حسن کا ہاضمہ خراب ہو وہ اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔علامات - سلامت کے لحاظ سے ہفتہ کے چار دفعہ ہیں۔پہلا درجہ سرایت کا، یہ زبانہ اگرچہ ایک سے چار دن کا زمانہ ہے۔مگر عموما ایک گھنٹڑ سے چوبیس گھنٹوں تک بھی اس کے علامات ظاہر ہو سجایا کرتے ہیں۔ان ایام میں سستی کا ہلی بے چینی اور وحشت کی ہوتی ہے۔کبھی خفیف دردسر یا دوران سر یا جسم میں گرانی معلوم ہوتی ہے۔ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔اکثر رات کو سوتے ہوئے ہی اس مرض کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔جاتا دوسرا درجہ : استفراغ کا۔ابتدائے میں شدت سے دست اور تھے آتے ہیں۔تے میں پہلے کھائی ہوئی غذا آتی ہے۔پھر صرف پیچھے کا سا پانی نکلا ہے۔دوستوں کی رنگت پہلے زردی مائل اور بعد میں ان کی رنگت بھی چاولوں کی کچھ کی مانند ہو جاتی ہے۔ہاتھ اور پاؤں اینٹھنے لگ جاتے ہیں۔سر اور پیٹ میں درد ہوتا ہے۔پیاس بہت ہوتی اور مریض بارہ بار پانی مانگتا ہے۔اور قے کر ڈالتا ہے۔بے چینی اور گھبراہٹ بڑھتی جاتی ہے۔یہ زمانہ دو تین گھنڈ سے چودہ پندرہ گھنڈ تک رہتا ہے۔اور پھر درجہ صنعت و نقاہت کا شروع ہو جاتی ہے۔اور جہ - صفف اور نقاہت کا۔اب مریض نہایت کمزور ہو جاتا ہے۔تھے اور دست بند ہو جاتے ہیں سرد ہار پھیلنے آتے ہیں اور سارا جسم ٹھنڈا یخ ہو جاتا ہے۔دم لینے سے تکلیف ہوتی ہے۔مریضین سے بولا نہیں جاتا۔چہرہ دب اور آنکھیں پھرا جاتی ہیں۔اور ان کے گرد نیلگوں حلقے پڑ جاتے ہیں۔اور شدت پیاس ہوتی ہے۔پیشاب بالکل نہیں آتا۔حرارت جسم ۹۵ یا اس سے بھی کم ہو جاتی ہے۔نبض کمزور اور ایک ایک کر چلتی ہے۔لب پیلے ہو جاتے ہیں۔چہرہ پر مردہ پر چھا جاتا ہے۔اور عمو تا ۳ سے ۱۰ گھنڈ میں مرجاتا ہے۔چھو توتھا درجہ انقلاب کا۔اس میں جسم گرم ہونے لگتا ہے۔نبض درست چلنے لگتی ہے۔تھوڑا تھوڑا پیشاب خارج ہونے لگتا ہے چہرہ اور آنکھوں پر تانہ گی آنے لگتی ہے۔فارگ :- روی قسم کے ہیضہ میں دوچار ہی بلکہ ایک ہی دست آنے کے بعد ہاتھ اینٹے لگ جاتے ہیں۔اور ردی علامات ظاہر ہو کہ مریض خود امر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض ابتداء ہی میں سرد ہو جاتا ہے۔دست اور تھے کوئی نہیں آتا اور مریضی رحمت ہو جاتا ہے۔کبھی اصل مرض کے علامات رفع ہو جاتے ہیں کے بعد مریض کو غنودگی سی ہو جاتی ہے ہے۔اور مر جاتا ہے۔کبھی رو بصحت ہونے کے بعد پھر دست آنے لگ جاتے ہیں۔اور مریضن مر جاتا ہے۔علاج۔اذالہ اسباب کرنا۔تدابیر حفظ صحت کرنا۔یاد رہے کہ دست اور قے کو بگرم بند کرنا اکثر ملک ہوتا ہے