بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 549 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 549

نظر لگنے یا مظلوم کی بد دعا کا اثر ہونا سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ کسی کی نظر لگ گئی یا مظلوم کی بد دعا سے کوئی پریشانی یا تکلیف پہنچی ہے تو کیا یہ سوچ شرک کے زمرہ میں تو نہیں آتی؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 07 مارچ 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب نظر لگنے یا مظلوم کی بد دعا کے اثر ہونے کا شرک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ دونوں باتوں میں نتیجہ خدا تعالیٰ کی ذات نکالتی ہے نہ کہ نظر ڈالنے والا یا مظلوم خود کچھ کرتا ہے۔نظر ڈالنے والے کی طرف سے تو صرف ایک غیر ارادی خواہش کا اظہار ہوتا ہے یا مظلوم کی درد سے ایک آہ اٹھتی ہے جسے خدا تعالیٰ قبول کر کے نتیجہ مترتب فرماتا ہے، لہذاہر دو معاملات کا شرک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں خصوصاً جبکہ دونوں باتیں احادیث نبویہ الم سے ثابت ہیں۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ حضور لم نے نصیحت فرمائی کہ : اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ (صحيح بخاري كتاب المظالم والغصب یعنی مظلوم کی بد دعا سے ڈرو اس لئے کہ اس کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔اسی طرح حضور الم نے فرمایا: الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ (صحیح بخاري كتاب الطب) یعنی حضور ا نے فرمایا کہ نظر کا لگ جانا حق ہے۔نیز آپ لال نے جسم گدوانے سے منع فرمایا۔( قسط نمبر 5، الفضل انٹر نیشنل 01 جنوری 2021ء صفحہ 18) 549