بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 492

مراقبہ سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے مراقبہ اور اس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات اور طریق کے بارہ میں دریافت کیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 جون 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: مراقبہ کے معانی عام طور پر دھیان لگانے ، توجہ دینے اور اپنے اعمال پر غور و فکر کرنے کو کہتے ہیں۔جس کی عادت انسانوں کے علاوہ جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے ، میں نے مراقبہ بلی سے سیکھا ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 147 مطبوعہ 2016ء) مراقبہ کا عمل جہاں مسلمان اولیاء اور صوفیاء کا ایک خاص شغل رہا ہے ، اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی اپنے اپنے طریق کے مطابق اس کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ یہود کے اسینی فرقہ جنہیں فریسی بھی کہا جاتا تھا کے بارہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ یہ لوگ روزے رکھتے اور پاک زندگی بسر کرتے تھے اور غیب کی خبریں بتاتے تھے اور عبادت کے وقت مراقبہ کرتے تھے تا ان کی ارواح کا تعلق آسمانی باپ سے پیدا ہو جائے۔( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 384، کالم نمبر 2) اسلامی عبادات کی بڑی غرض یہی ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق پیدا ہو۔چنانچہ حضور ا نے ایک سائل کے سوال کے جواب میں احسان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ـ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے لیکن اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو کم سے کم یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔(صحیح بخاري كتاب الايمان باب سُؤال جِبْرِيلَ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ا 492