بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 493

عبادت کی یہ دونوں کیفیات مراقبہ کی ہی صورتیں ہیں۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” در حقیقت نماز میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی روح کے کمال کے لئے دوسرے کے ساتھ تعاون ، وعظ و تذکیر اور مراقبہ یہ تین چیزیں ضروری ہیں۔مراقبہ کا قائم مقام خاموش نمازیں ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے مطلب کے مطابق زور دیتا ہے۔66 (روز نامه الفضل قادیان 5 ستمبر 1936ء صفحہ 4) مراقبہ کا طریق اور اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے ملک میں یہ کیفیت ہے کہ ہم ہر چیز کے متعلق اس طرح کودتے ہیں جس طرح بندر درخت پر کودتا ہے۔ابھی ایک خیال ہوتا ہے پھر دوسرا خیال ہوتا ہے پھر تیسرا خیال ہوتا ہے پھر چوتھا خیال ہو تا ہے ایک جگہ پر ہم سکتے ہی نہیں جس کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ قرآنی تعلیم اور حدیثی تعلیم ہمارے اندر جذب نہیں ہوتی کیونکہ ہم جھٹ اس سے کود کر آگے چلے جاتے ہیں۔(رسول کریم ایم نے اس کا علاج مراقبہ بتایا ہے اور مختلف شکلوں میں صوفیائے کرام نے اس پر عمل کی تدابیر نکالی ہیں مگر اس مادی دور میں اس کو پوچھتا کون ہے)۔۔۔ہمارے علماء نے وہ علاج اختیار نہیں کیا۔اور وہ یہ تھا کہ قرآن کی تعلیم اور حدیث کی تعلیم جو ان امور کے متعلق ہے اس کو بار بار ذہن میں لایا جائے جسے مراقبہ کہتے ہیں۔اور پھر بار بار لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔مگر ہمارے ہاں تو بجائے یہ کہنے کے کہ اخلاق کی درستی ہونے چاہیے بس یہی ہوتا ہے کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، یوں سجدہ کرو، یوں ڈھیلا استعمال کرو۔کم سے کم سات دفعہ جب تک پتھر سے خاص خاص حرکات نہ کرو تمہارا ڈھیلے کا فعل درست ہی نہیں ہو سکتا۔غرض یا قشر پر زور دیا جاتا ہے یا رسم پر زور دیا جاتا ہے اور جو اصل سبق ان احکام کے پیچھے ہے اسے 493