بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 402

قرآن میں خناس ہے۔یہ بات بائبل کے حوالہ سے بیان ہو یا قرآنی احکامات کی روشنی میں ، اصل میں اس میں مرد اور عورت دونوں کی بعض فطرتی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا گیا۔چنانچہ جہاں اس میں عورت کی یہ فطرتی کمزوری بیان کی گئی ہے کہ اس میں طمع ور لانچ کا مادہ پایا جاتا ہے وہاں اس میں اپنی ادا اور چالبازی کے ساتھ مرد کو ورغلانے اور اپنی بات منوانے کا گر بھی پایا جاتا ہے۔اسی طرح جہاں مرد خود کو بہت ہوشیار اور عظمند سمجھتا ہے وہاں اس میں یہ کمزوری بھی ہے کہ وہ بہت جلد عورت کی باتوں میں آجاتا ہے۔اور اس حقیقت کو آنحضور الم نے بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضور الم نے فرمایا: مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَّ دِيْنٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَا كُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ - (صحيح بخاري) یعنی اے عور تو کے گروہ! دین و عقل میں نسبتاً کم ہونے کے باوجود میں نے تم سے بڑھ کر کسی چیز کو نہیں دیکھا، جو بڑے، بڑے عقلمند اور مضبوط ارادہ والے مرد کی عقل مار دے۔عورت کے اسی فطرتی نقص اور فطرتی ہنر سے جہاں ماضی کی بعض تنظیمیں اپنا مفاد حاصل کرتی رہی ہیں وہاں آج کے اس ترقی یافتہ زمانہ میں بھی بڑے بڑے ممالک کی اکثر جاسوسی تنظیمیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان تنظیموں میں بہت سی عورتوں کو صرف اس لئے رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی اداؤں اور چالاکیوں سے کام لے کر مخالف تنظیموں یا اداروں کے مردوں سے ان کے راز نکلوائیں، اور اس میں انہیں کامیابی بھی ہوتی ہے۔پس یہ وہ امور ہیں جن کا تعلق عورت اور مرد کی اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہے لیکن اس کے ساتھ اسلام نے یہ تعلیم بھی دی ہے کہ حقوق و فرائض کے معاملہ میں نیز نیکیوں کے بجالانے ثواب کے ملنے میں عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔پس جس طرح مرد کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق اس کے کچھ حقوق اور کچھ ذمہ داریاں ہیں اسی طرح عورت کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق اس کے بھی ایسے ہی کچھ حقوق اور کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ان حقوق و فرائض 402