بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 374

آباد رہنا نا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہیئے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہو گا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہو گا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔اب دیکھو کہ یہ کس قدر انصاف کی بات ہے کہ جیسا کہ اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہو خود بخود اپنا نکاح کسی سے کرلے ایسا ہی یہ بھی پسند نہیں کیا کہ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔" (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 289،288) خُلع کا انعقاد چونکہ بذریعہ قضاء ہوتا ہے، اس لئے اس میں خود بخود گواہی قائم ہو جاتی ہے۔لیکن طلاق چونکہ اس طرح نہیں ہوتی اس لئے اگر میاں بیوی طلاق کے اجراء پر متفق ہوں اور ان میں کوئی اختلاف نہ ہو تو پھر گواہی کے بغیر بھی طلاق مؤثر ہوتی ہے۔طلاق کے لئے گواہی کا ہونا مستحب ہے ، لازمی نہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے طلاق اور رجوع کے سلسلہ میں جہاں گواہی کا ذکر فرمایا ہے وہاں اسے نصیحت قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَأَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ به (سورة الطلاق: 3) یعنی پھر جب عور تیں عدت کی آخری حد کو پہنچ جائیں تو انہیں مناسب طریق پر روک لو یا انہیں 374