بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 331

ان مسائل کو حل کریں گے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی 1977ء، خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 113) قرآن کریم ایک اور مقام پر اس بارہ میں اس طرح ہماری رہنمائی فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيْتٌ مُّحْكَمَتٌ هُنَّ أَمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشْبِهُتٌ فَأَمَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ وَالرَّسِحُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ أَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا وَ مَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ (آل عمران: 8) یعنی وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُسی میں سے محکم آیات بھی ہیں، وہ کتاب کی ماں ہیں۔اور کچھ دوسری متشابہ (آیات) ہیں۔پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اُس میں سے اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم مشابہ ہے حالانکہ اللہ کے سوا اور اُن کے سوا جو علم میں پختہ ہیں کوئی اُس کی تاویل نہیں جانتا۔وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے ، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔اور عقلمندوں کے سوا کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک ہر شخص کے لئے کوئی حصہ کسی متکلم کے کلام کا محکم ہوتا ہے یعنی جو خوب طور سے سمجھ آ جاتا ہے اور کوئی حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے معنے سمجھنے میں دقتیں پیش آتی ہیں اور بوجہ اس کے مجمل رکھنے کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔ہر شخص پر یہ حالت گزرتی ہے۔اللہ نے اس کے متعلق یہ راہ دکھائی ہے کہ جو آیات ایسی ہیں کہ جن کی خوب سمجھ آ جائے اور تجربہ و عقل و مشاہدہ اس کے خلاف نہ ہو وہ تو محکم سمجھ لو۔پھر وہ آیات جن کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ان کے معنے ایسے نہ کرے جو ان محکم آیات کے خلاف ہوں۔۔۔خلاصہ یہ ہے کہ بعض آیات خوب سمجھ میں آجاتی ہیں اور بعض کے معنے جلد نہیں کھلتے۔اس 331