بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 308

رحم سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں حال ہی میں کسی ملک میں رجم کی سزا کے نفاذ کا ذکر کر کے دریافت کیا ہے کہ کیا اس زمانہ میں بھی رجم کی سزا کا نفاذ کیا جاسکتا ہے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 مارچ 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلام کی تعلیمات جس میں سزائیں بھی شامل ہیں، کسی زمانہ یا ملک کے ساتھ مختص نہیں بلکہ عالمگیر اور دائمی ہیں۔لیکن اسلامی سزاؤں کے بارہ میں یہ بات ہمیشہ مد نظر رہنی چاہیئے کہ ان کے عموماً دو پہلو ہیں۔ایک انتہائی سزا اور ایک نسبتاً کم سزا اور ان سزاؤں کا بنیادی مقصد برائی کی روک تھام اور دوسروں کے لئے عبرت کا سامان کرنا ہے۔پس اگر زنا فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو اور وہ اسلامی طریقہ شہادت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو فریقین کو سو کوڑوں کی سزا کا حکم ہے۔لیکن جس زنا میں زبر دستی کی جائے اور اس میں نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتا ہو۔یا کوئی زانی چھوٹے بچوں کو اپنے ظلموں کا نشانہ بناتے ہوئے اس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہوا ہو تو ایسے زانی کی سزا صرف سو کوڑے تو نہیں ہو سکتی۔ایسے زانی کو پھر قرآن کریم کی سورۃ المائدہ آیت 34 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 61 تا 63 میں بیان تعلیم کی رُو سے قتل اور سنگساری جیسی انتہائی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔لیکن اس سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت وقت کو دیا گیا ہے اور اس تعلیم کے ذریعہ عمومی طور پر حکومت وقت کے لئے ایک راستہ کھول دیا گیا۔(قسط نمبر 11، الفضل انٹر نیشنل 12 مارچ 2021ء صفحہ 11) 308