بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 301

حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولانا مر شد نانورالدین صاحب خلیفتہ المسیح علیہ السلام بھی آئے ہوئے تھے اور صبح کی نماز پڑھ کر بیٹھے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی تشریف رکھتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ پیر صاحب بہت سے پیر دیکھے کہ وہ عملیات اور تعویذ کرتے ہیں کوئی عمل آپ کو بھی یاد ہے جس کو دیکھ کر ہمیں بھی یقین آجائے کہ عمل ہوتا ہے۔میں نے عرض کیا کہ ہاں یاد ہے۔فرمایا دکھاؤ اور میں نے عرض کی کہ ہاں وقت آنے دیجئے۔دکھلا دوں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ضرور صاحبزادہ صاحب کو یاد ہو گا ان کے بزرگوں سے عمل چلے آتے ہیں۔کوئی دو گھنٹہ کے بعد ایک شخص آیا جس کو ذات الجنب یعنی پسلی کا درد شدت سے تھا میں نے عرض کی کہ دیکھئے اس پر عمل کرتا ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ہاں عمل کرو۔حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ہاں عمل کرو۔میں نے اسی شخص پر دم کیا اس کو درد سے بالکل خدا تعالیٰ نے آرام کر دیا اور شفا دی۔جب اس کو آرام ہو گیا تو حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ مسمیریزم ہے۔میں نے اس زمانہ میں مسمیریزم کا نام بھی نہیں سنا تھا۔اور نہ میں جانتا تھا کہ مسمیریزم کیا چیز ہوتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا صاحبزادہ صاحب تم نے کیا پڑھا تھا میں نے عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک و علی محمد” میں نے الحمد شریف پڑھی تھی۔“ (تذکرۃ المہدی صفحہ 186، مطبوعہ 1914ء، ٹائیٹل ضیاء الاسلام پر لیس قادیان) پس آنحضور ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کرام علیہم السلام سے دم کرنا ثابت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے، ان قرآنی سورتوں اور ان پاکیزہ اذکار کی برکت اور بزرگوں کی دعا کے نتیجہ میں مریض کو شفا عطا فرما دیتا ہے۔(قسط نمبر 55، الفضل انٹر نیشنل 20 مئی 2023ء صفحہ 6) 301