بنیادی مسائل کے جوابات — Page 278
رَأَتْ حِيْنَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَهَا نُوْرٌ أَضَاءَ لَهَا مِنْهُ قُصُوْرُ الشَّامِ (مشكوة المصابيح كتاب الفضائل باب فضائل سید المرسلين علم) یعنی حضرت عرباض ابن ساریہ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس وقت سے خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں جب آدم (علیہ السلام) اپنی گندھی ہوئی مٹی میں پڑے تھے۔اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میرا امر (یعنی میری پیدائش کے معاملہ کی ابتدا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ، حضرت عیسی (علیہ السلام) کی بشارت اور میری والدہ کا خواب ہے جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا کہ میری والدہ کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا تھا جس نے شام کے محلات کو اُن پر روشن کر دیا تھا۔اور حدیث قدسی لَو لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفَلَاكَ کو علامہ آلوسی اور علامہ اسماعیل حقی نے اپنی تفاسیر میں درج کیا ہے۔جبکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے اِنِّي مَعَ الْإِكْرَامِ لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کے الفاظ میں اسے الہام فرمایا۔نیز حضور علیہ السلام نے اس کا اپنی کتب میں بھی ذکر فرمایا ہے۔تفاسیر اور حضور علیہ السلام کی ان کتب کے حوالے حسب ذیل ہیں: 1- (روح المعاني از علامه آلوسي جزو 29 صفحه 306 تفسير سورة النبأزيـر آیت 38 - داراحياء التراث العربي بيروت ایڈیشن 1999ء) 2 روح البیان از علامه حقي بروسوي جلد 6 صفحه 24 تفسير سورة النور زیر آیت 36 - دار الكتب العلمية بيروت ایڈیشن 2004 ء 3۔(تذکرہ صفحہ 583 ایڈیشن مطبوعہ 2023) 4 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 102) (قسط نمبر 33، الفضل انٹر نیشنل 06 مئی 2022ء صفحہ 9) 278