بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 277

دنیا کے دوسرے نبیوں کی تصدیق کی ہو۔چراغ لے کے ڈھونڈو، تلاش کر کے مجھے دکھاؤ۔ایک بھی نہیں۔آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ میں تمام انبیاء پر اور سب رسولوں پر جو ایمان کو لازم قرار دیا ہے وہ ایک ہی تو ہے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی الی۔تو تصدیق کی مہر کس کے ہاتھ میں ہے۔حضرت اقدس کے سوا کوئی ہاتھ دکھاؤ تو سہی۔یہ خاتمیت ہے۔اس خاتمیت کے اعلیٰ اور ارفع مضمون کو چھوئے بغیر تم زمانی ختم کے اوپر آپڑے ہو اور کچھ پتہ نہیں کہ باتیں کیا کر رہے ہو۔زمانی ختم مقام مدح میں نہیں ہے۔مگر یہ ختم جو قرآن بیان فرما رہا ہے یہ ایسی مدح ہے کہ جس کی کوئی مثال دنیا میں دکھائی نہیں جاسکتی۔تجربہ کر کے دیکھ لیجئے۔میں تو سب دنیا کو بتا رہا ہوں۔کسی دنیا کے مذہب کو چیلنج دے دیں آپ کہ تمہارا اگر نبی ، کوئی بھی نبی صاحب خاتم تھا تو اس کی دوسرے نبیوں پہ تصدیق تو دکھاؤ۔محمد رسول الله الی تعلیم کے سوا ایک بھی نہیں جو خاتم النبیین ہو۔تمام نبیوں کا مصدق ہو۔پس آئندہ بھی اگر کوئی آئے تو آپ کی تصدیق کے بغیر نہیں آسکتا۔اسی لئے ہم حقیقت میں جب کہتے ہیں کہ اُمتی نبی تو مراد امام مہدی اور وہ مسیح موعود ہیں جن کی پیشگوئی کی گئی ہے، اس کے سوا ہماری کوئی مراد نہیں ہوتی۔اس لئے کہ اس پر مہر تصدیق ثبت ہے۔امام مہدی کے سوا ہم نے کب کسی کو نبی کہا ہے۔پس وہی امام مہدی ہے اُسی کو ہم اُمتی نبی کہتے ہیں۔“ ملاقات پروگرام مؤرخہ 31 جنوری 1994ء) باقی جو آپ نے حدیثوں کے حوالے پوچھے ہیں تو مشکوۃ میں درج حدیث اور اس کا حوالہ اس طرح ہے: عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي عِنْدَ اللهِ مَكْتُوبٌ : خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَ إِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ وَ سَأخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى وَرُؤْيَا أُمِّيَ الَّتِي 277