بنیادی مسائل کے جوابات — Page 164
میرے سامنے تو وہ جنات کو حاضر نہ کر سکا۔“ ( مرقاة اليقين في حياة نورالدین صفحہ 249، مطبوعہ فروری 2002ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی مختلف تصانیف ، خطبات اور خطابات میں جنوں کے مسئلہ کو مختلف پیرایوں میں بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے اور قرآن کریم اور احادیث نبویہ الله فیلم میں بیان تعلیمات کی روشنی میں اس قسم کے جنوں کے وجود کا کلیۂ رڈ فرمایا جو عوام کے ذہنوں میں موجود ہے کہ وہ لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتے ہیں یا بعض لوگوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں جو پھر ان جنوں سے اپنی حسب منشاء کام کرواتے ہیں۔چنانچہ جنوں کے بارہ میں ایک سوال کے جواب میں حضور نے لکھوایا: میں جنات کی ہستی کا قائل ہوں مگر اس امر کا قائل نہیں کہ وہ کسی کے سر پر چڑھتے ہیں یا میوہ لا کر دیتے ہیں۔جیسے فرشتے کسی کے سر پر نہیں چڑھتے ، جنات بھی نہیں۔جس طرح فرشتے انسانوں سے ملاقات کرتے ہیں اسی طرح جنات بھی ملاقات کرتے ہیں۔لیکن جس طرح ان کا وجود ان کو اجازت دیتا ہے۔رسول کریم کی تعلیم کی نسبت میں سمجھتا ہوں کہ انسان اور جن سب کے لئے ہے اور آپ پر ایمان لانا جنات کے لئے بھی ضروری ہے۔آپ کی وحی پر عمل کرنا بھی۔مگر میرا یہی عقیدہ اس بات کا بھی باعث ہوا ہے کہ میں یہ اعتقاد بھی رکھوں کہ وہ نہ کسی کے سر پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی میوہ لا کر دے سکتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ آنحضرت پر ایمان لانے والوں کا فرض تھا کہ وہ آپ کی مدد اور نصرت کریں۔اگر جنات میں طاقت ہوتی کہ انسان کی مدد کر سکتے یا نصرت کر سکتے تو کیوں وہ ابو جہل وغیرہ کے سر پر نہ چڑھے۔ان کو کوئی قربانی بھی نہ کرنی پڑتی تھی۔لوگ کہتے ہیں کہ جن مٹھائی لا کر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔پر میں ایسے جنوں کا قائل نہیں ہو سکتا جو زید و بکر کو تو مٹھائی لا لا کر کھلاتے ہیں۔لیکن وہ شخص جس پر ایمان لانا ضروری اور فرض تھا اور بعض جن آپ پر ایمان بھی لائے تھے تین تین دن تک 164