بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 6

آسمانی بروج، شمس و نجوم کی تاثیرات سوال: ایک غیر از جماعت عرب خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں لکھا کہ۔۔۔نیز آسمانی بروج کے بارہ میں رہنمائی چاہی اور پوچھا ہے کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ میرا فلاں برج ہے؟ نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو شمس و نجوم کی تاثیرات کا ذکر فرمایا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 13 مارچ 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے: جواب: آسمانی برجوں کا قرآن میں مختلف جگہوں پر ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا۔(الحجر: 17) اور یقینا ہم نے آسمان میں (ستاروں کی) کئی منزلیں بنائی ہیں۔پھر فرمایا: تَبْرَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجا۔(الفرقان: 62) یعنی برکت والی ہے وہ ہستی جس نے آسمان میں ستاروں کے ٹھہرنے کے مقام بنائے ہیں۔پھر فرمایا: وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوحِ (البروج: 2) یعنی میں برجوں والے آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند، کواکب اور نجوم وغیرہ اجرام فلکی کا بھی قرآنِ کریم میں بکثرت ذکر فرمایا ہے۔احادیث نبوی ایم میں ان اجرام فلکی کا ذکر مختلف معنوں میں ملتا ہے۔چنانچہ احادیث میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے کہ قیصر روم ھر قل (جو علم النجوم کا بہت بڑا ماہر تھا) نے ستاروں کی نقل و حرکت سے اندازہ لگا لیا تھا کہ حضور لیتیم کی بعثت ہو چکی ہے یا آپ کی بعثت کا زمانہ قریب ہے۔(صحيح بخاري کتاب بدء الوحي) پھر حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ستارے آسمان کی زینت 6