بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 5

ہونے پر یہی ایک نہایت زبر دست دلیل ہے کہ آپ کا ظہور اُس سال کے اندر ہوا جو روزِ ازل سے ہدایت کے لئے مقرر تھا اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں سے یہی نکلتا ہے اور اسی دلیل سے میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا بھی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ اس تقسیم کی رُو سے ہزار ششم ضلالت کا ہزار ہے اور وہ ہزار ہجرت کی تیسری صدی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چودہویں صدی کے سر تک ختم ہوتا ہے۔اس ششم ہزار کے لوگوں کا نام آنحضرت الہم نے فیج اعوج رکھا ہے اور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح۔مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو۔کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے موعود کہلاتا ہے وہ مجدد صدی بھی ہے اور مجدد الف آخر بھی۔اِس بات میں نصاریٰ اور یہود کو بھی اختلاف نہیں کہ که آدم سے یہ زمانہ ساتواں ہزار ہے۔اور خدا نے جو سورۃ العصر کے اعداد سے تاریخ آدم میرے پر ظاہر کی اس سے بھی یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ساتواں ہزار ہی ثابت ہوتا ہے۔اور نبیوں کا اس پر اتفاق تھا کہ مسیح موعود ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہو گا اور چھٹے ہزار کے اخیر میں پیدا سیح ہو گا کیونکہ وہ سب سے آخر ہے جیسا کہ آدم سب سے اول تھا۔“ (لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207 تا208) پس یہی وہ آخری زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے آنحضور لم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو خاتم الخلفاء کے طور پر دین اسلام کی تجدید کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔(قسط نمبر 52 ، الفضل انٹر نیشنل ،8 اپریل 2023ء ، صفحہ 4) 5