بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 578

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میں اپنی جماعت میں امام الصلوۃ ہوں۔جمعہ کی نماز میں قنوت پڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ آجکل وبا کے دن ہیں اور احمدیوں پر بعض ممالک میں ظلم بھی ہو رہا ہے۔لیکن بعض دوستوں کو اس پر اعتراض ہے۔اس بارہ میں اجازت اور رہنمائی کی درخواست ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 12 فروری 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں: جواب: آنحضور ﷺ نے امام الصلوۃ کے لئے ایک نہایت ضروری نصیحت یہ فرمائی ہے کہ : إذَا صَلَّي أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفَ فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ والسَّقِيْمَ وَالْكَبِيرَ وَإِذَا صَلَّي أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوّلُ مَا شَاءَ (صحيح بخاري كتاب الاذان یعنی جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے ہلکی نماز پڑھانی چاہیے کیونکہ مقتدیوں میں کمزور اور بیمار اور بوڑھے سب ہی ہوتے ہیں۔اور جب تم میں سے کوئی اکیلا اپنی نماز پڑھے تو وہ جس قدر چاہے اسے لمبا کرے۔جہاں تک نمازوں میں قنوت کرنے کا معاملہ ہے تو احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے مسلمانوں پر کسی مصیبت کے وارد ہونے پر بھی کچھ وقت کے لئے قنوت کے طریق کو اختیار فرمایا۔چنانچہ رجیع اور بئر معونہ کے موقعہ پر دشمنان اسلام کی طرف سے بد عہدی اور دھو کہ دہی کے ساتھ صحابہ کی ایک بڑی جمعیت کی شہادت پر حضور الم نے ان مخالف قبائل کے خلاف تیس روز تک قنوت فرمایا اور ان قبائل کے خلاف بد دعا کی۔(صحيح بخاري كتاب المغازي) نیز اس کے علاوہ حضور الم نے صحابہ کو وتر کی نماز میں قنوت کرنے کا بھی طریق سکھایا اور اس کے لئے مختلف دعائیں بھی صحابہ کو سکھائیں۔(سنن ابي داؤد کتاب الصلاة بَاب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ) پس قنوت کا ایک طریق وہ ہے جو نماز وتر میں اختیار کیا جاتا ہے اور ایک قنوت خاص حالات میں مثلاً دشمن کی طرف سے کسی تکلیف کے پہنچنے پر یا کسی وباوغیرہ کے پھیلنے پر اختیار کیا جاتا ہے۔578