بنیادی مسائل کے جوابات — Page 540
سوال: بلاد عرب میں کسی شخص کے نبوت اور مجددیت کا دعویٰ کرنے پر اس فعل کے رڈ میں ایک عرب احمدی کی طرف سے لکھے جانے والے مضمون اور اس مضمون پر ربوہ سے بعض علماء کی طرف سے موصول ہونے والے موقف کے بارہ میں انچارج صاحب عربک ڈیسک یو کے نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 06 نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: دنیا کی ہدایت اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نبی یا مصلح کا مبعوث ہونا اس کی ایک ایسی نعمت ہے، جس کا دنیا میں کوئی بدل نہیں۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے جب بھی کسی نبی یا مصلح کی ضرورت محسوس کی تو انسانیت پر رحم کرتے ہوئے اس نے کسی نبی یا مصلح کو ضرور دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہے اور کسی انسان کو حق نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس سنت کو معطل قرار دے، کیونکہ قرآن و سنت میں ایسی کوئی نص موجود نہیں۔تاہم آئندہ زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا اظہار کس طریق پر ہو گا، یہ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔البتہ قرآن کریم، احادیث نبویہ الم اور انبیائے سابقہ کے صحیفوں میں آنحضور الم کے بعد ہمیں صرف ایک ہی جَرِيٌّ اللهِ فِي حُللِ الْأَنْبِيَاءِ کی بشارت ملتی ہے۔پھر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی الم نے بھی اپنے بعد امت محمدیہ میں دو دفعہ خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام کی بشارت دی ہے۔پہلی مرتبہ کے قیام کے بعد آپ نے اس نعمت کے اٹھائے جانے کا ذکر فرمایا ہے لیکن دوسری مرتبہ اس نعمت کے قیام کی خوشخبری دینے کے بعد آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، جس سے اس نعمت کے قیامت تک جاری رہنے کا استدلال ہو تا ہے۔(مسند احمد بن حبنل جلد 6 صفحه 285، مسند النعمان بن بشير) آنحضور ام کے غلام صادق اور اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی بشارتوں کے تحت جہاں ایک طرف خود کو خاتم الخلفاء قرار دیا اور اپنے بعد کسی اور مسیح کے آنے کا انکار فرمایا وہاں دوسری طرف آپ نے اپنے بعد ہزاروں 540