بنیادی مسائل کے جوابات — Page 488
w سوال : مکرم انچارج صاحب بنگلہ ڈیسک نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ بنگلہ دیش میں قومی ہیروز کے مجسمے بنانے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔کیا اسلام میں کسی ہیرو کا مجسمہ بنانا جائز ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 دسمبر 2020ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ہدایات فرمائیں : جواب: قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے قبل انبیاء کے ادوار میں نیک مقصد کے لئے تصاویر اور مجسمہ سازی کا کام کیا جاتا تھا جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ ایک فرقہ جن ان کے حسب منشاء ان کے لئے مجسمے بناتے تھے۔(سورۃ سبا:14) اسی طرح احادیث میں بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل اہل کتاب کے پاس مختلف انبیاء کی تصاویر تھیں، جن میں آنحضور الم کی تصویر بھی تھی۔(التاريخ الكبير مؤلفه ابو عبدالله اسماعيل بن ابراهيم الجعفي القسم الاول من الجزء الاول صفحه 179) علاوہ ازیں بچوں کے کھیلنے کے لئے گڑیاں اور گڈے وغیرہ بھی ہوتے تھے ، جیسا کہ حضرت عائشہ کی بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں ان کے پاس بھی کھلونوں میں گڑیاں اور پروں والے گھوڑے تھے، جنہیں حضور م نے بھی دیکھا اور آپ نے ان کے بارہ میں کسی قسم کی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔(سنن ابي داؤد کتاب الادب باب في اللعب بالبنات) لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی بہت ضروری ہے کہ آنحضور ا کے عہد مبارک میں چونکہ شرک اور بت پرستی اپنے انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، اس لئے حضور لم نے ہر اس کام کو جس سے ہلکا سا بھی شرک اور بت پرستی کے طرف میلان ہو سکتا تھا، نہایت نا پسند فرمایا اور سختی سے اس کی حوصلہ شکنی فرمائی۔چنانچہ گھر میں لٹکے ہوئے پر دہ یا بیٹھنے والے گدیلے پر تصاویر دیکھ کر حضور ایم نے سخت ناگواری کا اظہار فرمایا اور انہیں اتار نے اور پھاڑنے کا ارشاد فرمایا۔(صحيح بخاري كتاب الادب باب ما يجوز من الغضب والشدة لامر الله، كتاب بدء الخلق 488