بنیادی مسائل کے جوابات — Page 489
باب اذا قال احدکم آمين والملائكة في السماء) اسی طرح حضور اللہ تم نے اس زمانہ کے مطابق مصوری کے ذریعہ بنائی جانے والی تصاویر کی سختی سے ممانعت فرمائی اور مصوری کے کام کو ناجائز اور مورد عذاب قرار دیا۔(بخاري كتاب البيوع باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور حکم و عدل اپنے آقا و مطاع سیّد نا حضرت اقدس محمد مصطف الم کے نقش پا پر چلتے ہوئے حضور ﷺ کے نہایت پر حکمت ارشاد إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات کی روشنی میں اس مسئلہ کا یہ حل پیش فرمایا کہ جو کام کسی نیک مقصد کے لئے کیا جائے وہ جائز ہے لیکن وہی کام بغیر کسی نیک مقصد کے ناجائز ہو گا۔چنانچہ حضور علیہ السلام نے تبلیغ اور پیغام حق پہنچانے کی خاطر ایک طرف اپنی تصویر کی اشاعت کی اجازت دی، جس پر اس زمانہ کے نام نہاد ملاؤں نے اس نیک مقصد کی مخالفت کرتے ہوئے بُرے بُرے پیرایوں میں اسے بیان کیا اور اس کے خلاف دنیا کو بہکایا تو حضور علیہ السلام نے ان مخالفین کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ تصویر کو اتنا ہی بُرا سمجھتے ہیں تو پھر شاہی تصویر والا روپیہ اور دونیاں اور چونیاں اپنے گھروں اور جیبوں سے باہر کیوں نہیں پھینک دیتے اور اسی طرح اپنی آنکھیں بھی کیوں نکلوا نہیں دیتے کیونکہ ان میں بھی تو اشیاء کا انعکاس ہوتا ہے۔تو دوسری طرف حضور علیہ السلام نے اسی کام کو کسی جائز مقصد کے بغیر کرنے پر نہایت نا پسند فرمایا اور اسے بدعت قرار دیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اس مسئلہ کے ان دونوں پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے حضور اس پر علیہ السلام نے فرمایا: میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔میں نے ہر گز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے اور مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہو گا۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آجکل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اول خواہشمند ہوتے ہیں کہ 489