بنیادی مسائل کے جوابات — Page 474
گستاخ رسول کی سزا سوال : ایک دوست نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں گستاخ رسول کی سزا، قرآن و حدیث کو حفظ کرنے، درود شریف اور دیگر ذکر و اذکار، مختلف دعاؤں اور قرآنی سورتوں کو گن کر پڑھنے کی بابت بعض استفسارات بھجوا کر ان کے بارہ رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 دسمبر 2019ء میں ان سوالوں کے درج ذیل جوابات ارشاد فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن و حدیث نے کسی گستاخ رسول کو اس دنیا میں سزا دینے کا کسی انسان کو اختیار نہیں دیا۔خود آنحضرت ا نے بھی کسی گستاخ رسول کو سزا نہیں دی اور اگر کسی بد بخت کی ایسی گستاخی پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے محبت رسول نے اس شخص کو سزا دینے کی حضور ام سے اجازت مانگی تو حضور ام نے انہیں بھی اس کی اجازت نہیں دی۔اپنے آقا و مطاع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی تعلیم بیان فرمائی ہے۔اس کے ساتھ اسلام نے دنیا کے مختلف ادیان کے ارباب حل و عقد اور دیگر اولو الا مر کے لئے یہ رہنمائی بھی بیان فرمائی ہے کہ کسی کے مذہب اور ان کی قابل احترام شخصیات کا اس طرح ذکر نہ کیا جائے جو اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو۔پس ایک طرف اسلام نے اس دنیا میں کسی انسان کو کسی گستاخ رسول کو سزا دینے کی اجازت نہیں دی تو دوسری طرف یہ تعلیم بھی دی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے مذہب اور ان کے پیشواؤں کا نامناسب الفاظ میں ذکر نہ کرے۔(قسط نمبر 13، الفضل انٹر نیشنل 09 اپریل 2021ء صفحہ 11) 474