بنیادی مسائل کے جوابات — Page v
اختلافات کا فیصلہ فرمائیں۔(صحيح بخاري كِتَابٍ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاء ـ سنن ابن ماجه کتاب الفتن) آپ علیہ السلام کی بعثت سے قبل اور بعد بہت سے ملکوں، حکومتوں اور لوگوں نے اُمت کے اس تفرقہ کو دُور کر کے ایک ہاتھ پر جمع کرنے کی کوشش کی۔جس کے لئے انہوں نے مختلف خود ساختہ خلافتوں اور تحریکات کے نام پر کئی نظام قائم کئے۔اس کے لئے انہوں نے بین الا قوامی کانفرنسوں کے نام پر بھی کئی بیٹھکیں کیں۔لیکن امت محمدیہ کی وحدت کا حل اللہ تعالیٰ نے چونکہ اپنے اس فرستادہ کے لئے مقرر کر چھوڑا تھا جسے اس نے مسیح محمدی کے طور پر بھجوانا تھا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے حکم اور عدل قرار دیا تھا، اس لئے ان کی یہ تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔اور اللہ تعالیٰ نے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر اُمت واحدہ کی بنیاد ڈالی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عہد مبارک میں جہاں بہت سی ذمہ داریوں کو بھر پور طور پر ادا کرنے کی توفیق پائی وہاں آپ نے لوگوں کے روز مرہ عام و دینی بنیادی مسائل کے جوابات بھی ارشاد فرمائے۔لوگ آپ کے پاس خود حاضر ہو کر یا خطوط کے ذریعہ اپنے مسائل بیان کرتے اور آپ ان کے جوابات عطا فرماتے۔آپ کے یہ جوابات قرآن کریم، سنت رسول ام اور احادیث نبویہ ام کی روشنی میں ہوتے، جو آپ کے ملفوظات اور مکتوبات کے مجموعوں کی صورت میں ایک بیش قیمت خزانہ ہمارے پاس موجود ہے۔آپ کے وصال کے بعد آپ ہی کی بیان فرمودہ پیشگوئیوں کے مطابق خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کی صورت میں قدرت ثانیہ کا ظہور ہوا جس کی برکت سے احباب جماعت اپنے روز مرہ مسائل کے بارہ میں رہنمائی کے لئے زبانی اور تحریری ، اپنی ملاقاتوں اور اپنے خطوط کے ذریعہ خلفاء کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اور خلفائے احمدیت اپنے اپنے دور میں قرآن کریم، سنت رسول الله، احادیث نبویہ ﷺ اور اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں لوگوں کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں انہیں ہدایات و رہنمائی سے نوازتے رہے ہیں۔آج رُوئے زمین پر جماعت احمد یہ وہ واحد خوش نصیب جماعت ہے جو اس مادہ پرست iii