بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 433

فرشتے سوال : ایک خاتون نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ”توضیح مرام“ کے حوالہ سے فرشتوں کے چاند، سورج اور ستاروں پر اثر ڈالنے، ان اجسام کے انسانوں پر اثر ڈالنے ، اور فرشتوں کے جسمانی طور پر زمین پر اترنے کے بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22 جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اس تصنیف لطیف میں فرشتوں کے کواکب پر اثر انداز ہونے، سورج، چاند، ستاروں کے ہماری زمین کے نباتات و جمادات اور حیوانات پر اثر ڈالنے اور فرشتوں کے انسانوں پر روحانی اثرات ہونے کے مضامین کو نہایت لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ فرشتوں کے سورج، چاند، ستاروں پر اثر انداز ہونے کے آپ کے بیان کردہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ملائکہ ان کو اکب پر خدا تعالیٰ کے اذن کے تحت مدبر و منظم ہیں اور ان اجرام فلکی پر ان کی تاثیرات بالذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہوتی ہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں ان کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں۔“ پھر حضور علیہ السلام نے ایک مضمون یہ بیان فرمایا ہے کہ ان اجرام فلکی یعنی سورج ، چاند اور ستاروں کا ہماری زمین کے نباتات، جمادات اور حیوانات پر دن رات اثر پڑتا رہتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چاند کی روشنی سے پھل موٹے ہوتے، سورج کی گرمی اور تپش سے پھل پکتے اور میٹھے ہوتے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل لانے کا موجب ہوتی ہیں۔433