بنیادی مسائل کے جوابات — Page 416
سوال: عید الاضحیہ کی قربانی کتنے دنوں تک ہو سکتی ہے ؟ اس سوال کے بارہ میں دارالافتاء سے جاری ہونے والے ایک فتویٰ کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 مارچ 2022ء میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: عید الاضحیہ کی قربانی کتنے دنوں تک ہو سکتی ہے، اس بارہ میں تو آپ کا فتویٰ ٹھیک ہے اور میرا بھی یہی موقف ہے کہ عام حالات میں قربانی تین دن تک ہی ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی مجبوری ہو تو اس کے بعد بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔باقی مجھے تو آپ کے اس استدلال پر اعتراض تھا جو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے کیا تھا۔میرے نزدیک تو اس ارشاد میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ بھی یہی بیان فرما رہے ہیں کہ قربانی تین دنوں تک ہی ہو سکتی ہے اور حضور کا یہ ارشاد عمومی حالات کے لئے ہے۔(نوٹ از مرتب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مذکورہ بالا مکتوب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے جس ارشاد کا ذکر فرمایا ہے ، وہ درج ذیل ہے: آنحضرت ام کا طریق یہ تھا کہ عید کا خطبہ زیادہ لمبا نہیں کیا کرتے تھے اور اس کے بعد جلد قربانی کے لئے گھر روانہ ہو جایا کرتے تھے۔اس میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ آپ اس وقت تک روزہ رکھتے تھے جب تک خود اپنی قربانی کے گوشت سے وہ روزہ نہ کھولیں اور اس سنت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ دستور بنالیا ہے کہ عید کے دن ضرور روزہ رکھتے ہیں اور جب تک فارغ نہ ہوں وہ کچھ نہیں کھاتے لیکن مراد ہر گز نہیں ہے کہ کچھ پہلے کھانا حرام ہو جاتا ہے مگر سنت کا مضمون یہ ہے کہ جس نے قربانی کرنی ہو، جس دن قربانی کرنی ہو، اس دن وہ قربانی کے گوشت کے حاصل ہونے سے پہلے روزہ رکھے۔قربانی تو تین دن چلتی ہے۔تو اگر یہ غلط مضمون سمجھا گیا تو اس کا مطلب یہ بنے گا کہ بعض لوگ جنہوں نے چوتھے دن قربانی کرنی ہے وہ چار دن بھوکے رہیں۔(خطبات طاہر ( عیدین) صفحہ 655، خطبہ عید الاضحیہ مؤرخہ 28 مارچ 1999ء) (قسط نمبر 49، الفضل انٹر نیشنل 24 فروری 2023ء صفحہ 11) 416