بنیادی مسائل کے جوابات — Page 415
سوال: عید اور جمعہ کے ایک ہی دن جمع ہو جانے پر نماز عید کی ادائیگی کے بعد نماز جمعہ یا نماز ظہر پڑھنے کے بارہ میں محترم ناظم صاحب دار الافتاء کی ایک رپورٹ کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 مئی 2021ء میں اس مسئلہ پر درج ذیل اصولی ہدایات عطا فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: عید اور جمعہ کے ایک ہی دن جمع ہو جانے پر نماز عید کی ادائیگی کے بعد اس روز نماز جمعہ اور نماز ظہر دونوں نہ پڑھنے کے بارہ میں تو صرف حضرت عبد اللہ بن زبیر کا ہی موقف اور عمل ملتا ہے اور وہ بھی ایک مقطوع روایت پر مبنی ہے، نیز اس روایت کے دوراویوں کے بیان میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔جبکہ مستند اور قابل اعتماد روایات میں تو حضور العلم کی سنت اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کا یہی مسلک ملتا ہے کہ ان سب نے یا تو اس روز نماز عید کی ادائیگی کے بعد جمعہ بھی اپنے وقت پر ادا کیا ہے اور دُور کے علاقوں سے آنے والوں کو جمعہ سے رخصت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں ظہر کی نماز ادا کر لیں۔اور بعض مواقع پر نماز عید کی ادائیگی کے بعد جمعہ ادا نہیں کیا لیکن ظہر کی نماز ضرور اپنے وقت پر ادا کی گئی۔یہی موقف اور عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کا بھی ملتا ہے۔سوائے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کے ایک مرتبہ کے عمل کے کہ جب آپ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی اسی مذکورہ بالا روایت پر عمل کرتے ہوئے عید پڑھانے کے بعد نہ جمعہ ادا کیا اور نہ ظہر کی نماز پڑھی۔لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر کی یہ روایت آنحضور الم اور خلفائے راشدین کے کسی قول یا فعل پر مبنی نہیں ہے اس لئے صرف اس مقطوع روایت کی وجہ سے جس کے راویوں کے بیانات میں بھی تضاد موجود ہے فرض نماز کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔لہذا اس روایت پر مبنی حصہ کو فقہ احمدیہ سے حذف کر دیں۔اور فقہ احمدیہ میں لکھیں کہ اگر عید اور جمعہ ایک دن میں جمع ہوتے ہیں تو نماز عید کی ادائیگی کے بعد اگر جمعہ نہ پڑھا جائے تو ظہر کی نماز اپنے وقت پر ضرور ادا کی جائے گی۔(قسط نمبر 36، الفضل انٹر نیشنل 17 جون 2022ء صفحہ 11) 415