بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 388

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی درس القرآن میں سورۃ الطلاق کی اس آیت کی تفسیر میں وضع حمل کی عدت کو تین ماہ کی عدت (جو کہ طلاق کی صورت میں مقرر ہے نہ کہ بیوگی کی صورت میں) گزارنے والی عورتوں کے ضمن میں بیان فرمایا ہے نہ کہ چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے والی بیوہ عورتوں کے متعلق اس حکم کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: اور وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں(1) بوڑھی ہوں (2) جن کو حیض نہ آتا ہو یعنی سن بلوغت تک نہ پہنچی ہوں (3) وہ جو کہ بیمار ہوں یعنی استحاضہ والی۔ان کے لئے تین ماہ کی عدت ہے اور حمل والیوں کی عدت ان کے ایام حمل ہی ہیں۔جب بچہ جن چکیں تو عدت ختم ہو گئی۔اس پر لوگوں نے بڑی بڑی بخشیں کی ہیں کہ اگر تین ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو کیا عدت ختم ہو جائے گی۔بعض کہتے ہیں کہ کم سے کم تین ماہ ہوں گے۔مگر آنحضرت اللی علم کے زمانہ میں ایک واقعہ ہوا تھا کہ ایک عورت کو تین ماہ سے پہلے ہی وضع حمل ہو گیا تھا اور اسے آپ نے دوسری شادی کی اجازت دے دی تھی۔اس لئے اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے۔" 66 اخبار الفضل قادیان دارالامان مؤرخہ 4 مئی 1914ء صفحہ 14) پس میرے نزدیک بیوہ ہونے کی صورت میں اگر حمل ہے اور وہ چار مہینے دس دن پورے ہونے کے بعد بھی چل رہا ہے تو وہ اس کی مدت کو پورا کرے گی اور اگر چار مہینے دس دن سے پہلے وضع حمل ہو رہا ہے تو تب بھی وہ چار مہینے دس دن کی مدت ہی پوری کرے گی۔میرا یہ استنباط اس حدیث کی بناء پر ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں سوائے بیوہ کے جو کہ اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن کا سوگ کرے گی۔(صحیح بخاري كتاب الجنائز باب إِحْدَادِ الْمَرْأَةِ عَلَي غَيْرِ زَوْجِهَا) - یہ حدیث اس بات کو واضح کر دیتی ہے کہ یہاں طلاق والی یا حمل والی شرط لاگو نہیں ہوتی۔یہاں بیوگی کا جو عرصہ ہے وہ چار مہینے دس دن بیان فرمایا گیا ہے۔اگر صرف یہ دیکھنا ہو تا کہ اس عرصہ میں حمل ظاہر ہو جائے تو یہاں بھی طلاق والی شرط ہی رکھی جاسکتی تھی لیکن چار مہینے دس دن کی 388