بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 387

صحابہ ایسے بھی ہوں گے جن کی بیویاں ان کی شہادت کے وقت حاملہ ہوں گی لیکن ایسی کسی بیوہ کے وضع حمل کے فوراً بعد اس کے نکاح کا کوئی ایک بھی واقعہ تاریخ و سیرت کی کتب میں نہ ملنا اس موقف کو مبہم اور مشتبہ ٹھہراتا ہے۔پس اس ایک واقعہ کی بناء پر قرآن کریم میں بیان چار ماہ دس دن کی عدت والے واضح موقف کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں حدیث میں حضور ﷺ نے کسی کی وفات پر سوگ کے بارہ میں عمومی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں سوائے بیوہ کو کہ اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔(صحيح بخاري كتاب الجنائز باب وہ إِحْدَادِ الْمَرْأَةِ عَلَي غَيْرِ زَوْجِهَا) اس حدیث میں بھی حضور ام نے حاملہ عورت کے لئے کوئی استثناء نہیں فرمایا کہ وہ وضع حمل تک سوگ کرے گی۔اسی طرح قرآن کریم میں جہاں وضع حمل کے ساتھ عدت ختم کرنے کا ارشاد ہے وہاں صرف طلاق کی صورت کو بیان کیا گیا ہے، خاوند کی وفات کا وہاں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف آریہ دھرم میں آیت وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ کا جو ترجمہ بیان فرمایا ہے اس میں اس آیت کا طلاق کے ساتھ حصر کر کے ہماری رہنمائی فرما دی کہ قرآن کریم کا یہ حکم طلاق والی عورتوں کے لئے ہے، بیوہ کے لئے نہیں ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: " وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الجزء نمبر 28) یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہو گی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔66 آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 21) 387