بنیادی مسائل کے جوابات — Page 337
یعنی کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ایک جماعت ہمارے پاس گوشت لے کر آتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے (اسے ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا ہوتا ہے یا نہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس گوشت پر اللہ کا نام (بسم اللہ ) پڑھ لیا کر و اور اسے کھالیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا: شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَلَّھا پر زور دیا ہے۔آنحضرت ام آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گزارہ بھی تو نہیں ہوتا۔“ (الحکم نمبر 19، جلد 8 ، مؤرخہ 10 جون 1904 صفحہ 3) اسی طرح حضرت منشی محمد حسین صاحب کلرک دفتر سرکاری وکیل لاہور کے نام اپنے ایک مکتوب مؤرخہ 25 نومبر 1903ء میں حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا: آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک و شبہ میں پڑنا بہت۔منع ہے۔شیطان کا کام ہے، جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ہر گز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہیے گناہ ہے۔اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہو تا۔اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ایسی حالت میں بیشک نماز پڑھنا چاہیئے۔اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔آنحضرت ام اور آپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر کپڑا پر منی گرتی تھی تو ہم اس منی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے۔کپڑا نہیں دھوتے تھے۔اور ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لئے پڑتے تھے۔ظاہری پاکیزگی سے معمولی حالت پر کفایت کرتے تھے۔عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر یک چیز پاک ہے۔ے۔محض 337