بنیادی مسائل کے جوابات — Page 338
شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔“ (اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر 66 ، جلد 11، مورخہ 22 فروری 1924ء صفحہ 9) پس انسان کو وہموں اور شک و شبہ میں مبتلا ہوئے بغیر تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنے معاملات اور دنیاوی امور کو بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور جہاں براہ راست کسی ممنوع کام میں پڑنے کا امکان ہو یا کسی چیز کی حرمت واضح طور پر نظر آتی ہو اس سے بہر صورت اجتناب کرنا چاہیئے۔چنانچہ اس بارہ میں حضور الم کی ایک اور حدیث ہماری بہترین رہنمائی کرتی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں: مَا خُيْرَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ كَانَ أَبْعَدَهُمَا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَي إِلَيْهِ قَطُّ حَتَّي تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللهِ فَيَنْتَقِمُ لِله (صحيح بخاري كتاب الحدود) یعنی نبی کریم اللی علم کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان صورت کو اختیار کیا جب تک کہ وہ گناہ کی بات نہ ہو۔اگر وہ گناہ کی بات ہوتی تو آپ اس سے بہت زیادہ دور رہتے۔اللہ کی قسم آپ نے کبھی اپنے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا، جب تک محرمات الہیہ کی خلاف ورزی نہ ہو اور جب اس کی خلاف ورزی کی ہو تو آپ اللہ کے لئے انتقام لیتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بھی آتا ہے کہ ایک موقعہ پر امریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہوا۔اسی میں یہ ذکر بھی آیا کہ دودھ اور شور با وغیرہ جو کہ ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور ستھر اہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔دودھ تک بھی بذریعہ مشین دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: چونکہ نصاریٰ اس وقت ایک ایسی قوم ہو گئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سور کا گوشت اُن میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا 338