بنیادی مسائل کے جوابات — Page 287
و جال سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ جلسہ جرمنی میں ایک تقریر میں دجال کو ایک شخص کی بجائے استعارہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن گزشتہ دنوں ایک ویڈیو میں صحیح مسلم کی ایک حدیث کا ذکر تھا جس میں دجال کو ایک مجسم انسان قرار دیا گیا ہے۔کیا یہ حدیث Authentic ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: دراصل آخری زمانہ میں اسلام نے جن مصائب اور فتنوں سے دوچار ہونا تھا، ان میں دجال اور یا جوج ماجوج کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں مختلف پیرایوں میں ان فتنوں کا ذکر موجود ہے اور آنحضور الم نے بھی مختلف انداز میں ان فتنوں سے اپنی اُمت کو آگاہ فرمایا ہے، جس کا ذکر کئی احادیث میں بیان ہوا ہے۔انہیں میں سے ایک حدیث صحیح مسلم کی بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔یہ حدیث بھی اس مضمون سے تعلق رکھنے والی دیگر احادیث کی طرح کشفی نظارہ اور استعارات پر مشتمل ہے۔اگر اس حدیث میں بیان امور حقیقت پر مبنی ہوتے تو اس راوی کے علاوہ بھی کئی اور لوگوں نے اس حدیث میں بیان اس جساسہ اور دیو ہیکل دنجال کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا ہوتا۔پس کسی اور کا اس حدیث میں بیان امور کے بارہ میں اپنا ظاہری مشاہدہ بیان نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔باقی جہاں تک دجال اور یا جوج ماجوج کی حقیقت کا تعلق ہے تو یہ ایک ہی فتنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔دجال اس فتنہ کے مذہبی پہلو کا نام ہے۔جس کا مطلب ہے کہ یہ گروہ آخری زمانہ میں لوگوں کے مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں فساد پیدا کرے گا۔اور اس زمانہ میں جو گروہ سیاسی حالات کو خراب کرے گا اور سیاسی امن و امان کو تباہ و برباد کرے گا اس کو یاجوج ماجوج کا نام دیا گیا ہے۔اور ہر دو سے مراد مغربی عیسائی اقوام کی دنیوی طاقت اور ان کا مذہبی پہلو ہے۔لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی اللی علم کے ذریعہ ہمیں یہ خبر دی کہ جب دجال اور یا جوج ماجوج کے فتنے برپا ہوں گے اور اسلام کمزور ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسلام کی حفاظت 287