بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 276

فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تأخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارانہ ہوگی۔۔۔اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ بیان کر کے اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ”یہی ہمارا عقیدہ ہے۔حضرت اقدس محمد ام تو اس وقت بھی خاتم تھے کہ جبکہ انسان کا ابھی Blue Print تھا۔ابھی وہ تخلیق کے تشکیلی مراحل سے گزر رہا تھا۔تخلیق کو تشکیل دی جارہی تھی۔حضرت محمد مصطفى الالم فرماتے ہیں میں اُس وقت بھی خاتم النبیین تھا جبکہ آدم ابھی اپنی تخلیق کی مٹی میں لت پت تھا۔کتنا عظیم الشان مضمون ہے۔خاتمیت زمانہ سے بالا ہے۔زمانہ کے ماتحت نہیں ہے۔خاتم سے پہلے بھی کوئی نبی اس کی نبوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا، نہ بعد میں کوئی نبی ایسا آسکتا ہے جو اس کے مقابل پر ہو۔لیکن بعد میں ایک لازم شرط ہے کہ مطیع ہو گا تو ہو گا ورنہ بالکل نہیں ہو گا۔غلام آسکتا ہے۔غیر غلام نہیں آسکتا۔اور پہلے بھی وہی نبی ہیں جن پر آپ کی مُہر تصدیق ہے۔اس مضمون کو سمجھنے کی لوگ کوشش نہیں کرتے، بہت عظیم الشان مضمون ہے۔آنحضرت ام کو مسلمان خاتم کہہ دیتے ہیں۔کہتے ہیں بہت عظیم الشان ایک منفر د مر تبہ ہے جو کسی نبی کو حاصل نہیں۔پوچھو کہ ثبوت کیا ہے؟ تو ان علماء سے پوچھ کے دیکھ لیجئے، کچھ ثبوت ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔کیسے پتہ چلا، کیسے دنیا پہ ثابت کر سکتے ہو ؟ یہاں جب مغربی دنیا میں مجالس میں لوگ مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگوں کے پاس کیا ثبوت ہے ؟ میں کہتا ہوں میں تمہیں ثبوت دکھاتا ہوں۔اس کا جواب نکال کے دکھاؤ۔ساری دنیا میں جتنے انبیاء آئے ہیں ایک بھی نبی ایسا نہیں جس نے اپنے سلسلہ کے علاوہ 276