بنیادی مسائل کے جوابات — Page 273
جبکہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اور جس کو احکام شرعیہ کا مکلف بنایا گیا ہے اس کی جزا سزا کا فیصلہ ان احکام شرعیہ کی روشنی میں ہو گا اور اس کے لئے اس کے اعمال کے مطابق جنت و دوزخ کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔شرعی لحاظ سے مکلف ہونے اور اپنے اعمال کے لحاظ سے جزاء سزا پانے کی بابت انسانوں اور حیوانات کی ارواح کے فرق کے بارہ میں حضور علیہ السلام کے ملفوظات میں بیان مذکورہ بالا ارشاد کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعض تصانیف میں بھی انسانوں اور حیوانوں کی ارواح کے فرق کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کہ ہم نے فلاں قوم کر مارا اور پھر زندہ کر دیا، ایک نبی کو سو برس مارا اور پھر زندہ کر دیا۔حضرت ابراہیم کی معرفت جانور زندہ کئے گئے وغیرہ استعارات کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: وو یہ ہر گز سچ نہیں ہے کہ ان تمام مقامات میں جہاں مردہ زندہ ہونا لکھا ہے واقعی اور حقیقی موت کے بعد زندہ ہونا لکھا گیا ہے بلکہ لعنت کی رُو سے موت کے معنے نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔پس کیوں آیات کو خواہ مخواہ کسی تعارض میں ڈالا جائے اور اگر فرض کے طور پر چار جانور مرنے کے بعد زندہ ہو گئے ہوں تو وہ اعادہ رُوح میں داخل نہیں ہو گا۔کیونکہ بجز انسان کے اور کسی حیوان اور کیڑے مکوڑے کی روح کو بقا نہیں ہے۔اگر زندہ ہو جائے تو وہ ایک نئی مخلوق ہو گی۔چنانچہ بعض رسائل عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ اگر بہت سے بچھو کوٹ کر ایک ترکیب خاص سے کسی برتن میں بند کئے جائیں تو اس خمیر سے جس قدر جانور پیدا ہوں گے وہ سب بچھو ہی ہوں گے۔تو اب کیا کوئی دانا خیال کر سکتا ہے کہ وہی بچھو دوبارہ زندہ ہو کر آگئے جو مر گئے تھے بلکہ مذہب صحیح جو جو قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے یہی ہے کہ مخلوقات ارضی میں سے بجز جن اور انس کے اور کسی چیز کو ابدی روح نہیں دیا گیا۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 221،220) آریہ مذہب کے عقائد کے بالمقابل اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے انسانی روح کے بقا کی حقیقت 273