بنیادی مسائل کے جوابات — Page 179
سوال: لندن سے ایک خاتون نے حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کی روشنی میں تیسری جنگ عظیم کے متعلق بیان تنبیہ کے حوالہ سے اس جنگ کے بارہ میں مزید شواہد دریافت کئے۔نیز لکھا کہ غیر از جماعت لوگ جنوں بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں، انہیں جنوں کی حقیقت کیسے سمجھائی جاسکتی ہے؟ حضو انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 17 دسمبر 2021ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب باقی جہاں تک جنوں اور بھوتوں کے تصور کی بات ہے تو غیر از جماعت لوگوں میں جنوں اور بھوتوں کے بارہ میں جو تصور پایا جاتا ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویہ ای ایم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔البتہ قرآن کریم اور احادیث میں جن کا لفظ کثرت کے ساتھ اور مختلف معنوں میں آیا ہے۔اور ہر جگہ سیاق و سباق کے مطابق اس لفظ کے معانی ہوں گے۔جن کے بنیادی معنی مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔جو خواہ اپنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا اپنی عادات کے طور پر مخفی ہو اور یہ لفظ مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہو کر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں مخفی اور پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔چنانچہ جن والے مادہ سے بننے والے مختلف الفاظ مثلاً جن سایہ کرنے اور اندھیرے کا پردہ ڈالنے، جنین ماں کے پیٹ میں مخفی بچہ، جنون وہ مرض جو عقل کو ڈھانک دے، جنان سینہ کے اندر چھپا دل، جنَّة باغ جس کے درختوں کے گھنے سائے زمین کو ڈھانپ دیں، مَجَنَّة ڈھال جس کے پیچھے لڑنے والا اپنے آپ کو چھپالے، جان سانپ جو زمین میں چھپ کر رہتا ہو ، جنن قبر جو مردے کو اپنے اندر چھپالے اور جُنَّة اوڑھنی جو سر اور بدن کو ڈھانپ لے کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔پھر جن کا لفظ با پر وہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔نیز ایسے بڑے بڑے رؤسا اور اکابر لوگوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو عوام الناس سے اختلاط نہیں رکھتے۔نیز ایسی قوموں کے 179