بنیادی مسائل کے جوابات — Page 146
ٹیٹو (Tattoo) بنوانا سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ جسم کے جس حصہ پر ٹیٹو بنوائے گئے ہوں، اس حصہ پر پانی جلد تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے ٹیٹو بنوانے والے شخص کے وضو اور غسل جنابت کی تکمیل کے بارہ رہنمائی کی درخواست ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 مئی 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل اصولی ہدایات فرمائیں: جواب: پہلی بات یہ ہے کہ ٹیٹو بنانا اور بنوانا تو ویسے ہی جائز نہیں ہے۔احادیث میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے حصول کی خاطر جسموں کو گو دھنے والیوں اور گدھوانے والیوں پر لعنت کی ہے جو خدا کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔(صحيح بخاري كتاب اللباس) آنحضور ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا میں اور خاص طور پر جزیرۂ عرب میں قسم قسم کے شرک کا زہر ہر طرف پھیلا ہوا تھا اور مختلف قسم کی بے راہ رویوں نے انسانیت کو اپنے پنجہ میں جکڑا ہوا تھا اور عور تیں اور مر د مختلف قسم کی مشرکانہ رسومات اور معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔جس میں مشرکانہ طور پر برکت کے حصول کے لئے جسم، چہرہ اور بازووغیرہ پر کسی دیوی، بت یا جانور کی شکلیں گندھوائی جاتی تھیں۔یا معاشرتی بے راہ روی اور فحاشی کو فروغ دینے کی خاطر حسن کے حصول کے لئے ایسا کیا جاتا تھا۔جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کا اپنی خوبصورتی کے لئے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔لیکن جس حسن کے حصول پر حضور ام نے لعنت کا انذار فرمایا ہے، اس کا یقیناً کچھ اور مطلب ہے۔اس لئے ان چیزوں کی ممانعت میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ ان کے نتیجہ میں اگر شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا ان امور کو اس لئے اپنایا جائے کہ اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے تو یہ سب افعال ناجائز اور قابل مؤاخذہ قرار پائیں گے۔جہاں تک ٹیٹو بنوانے کا تعلق ہے تو مرد ہو یا عورت اس کے پیچھے صرف یہی ایک مقصد ہوتا ہے 146