بنیادی مسائل کے جوابات — Page 92
صحیح طرح ادا کیا جائے تو اللہ تعالیٰ پھر انسان کو توفیق دیتا ہے کہ وہ نیکیاں ہی کرتا رہے۔کیونکہ اس کی عبادت کا حق ادا ہو رہا ہوتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے بندوں کا حق ادا کرو۔جب انسان اس کے بندوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر کسی سے برائی نہیں کرتا اور پھر مزید نیکیوں کی بھی توفیق ملتی چلی جاتی ہے۔یہ دونوں چیزیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔تو بنیادی چیز یہی ہے کہ اللہ کا حق ادا کرو اور بندوں کا حق ادا کرو۔باقی انسان تفصیلات میں جائے تو اپنا خود جائزہ لے، اپنے ضمیر سے دیکھے ، پوچھے کہ کیا برائیاں ہیں جو میں نے چھوڑنی ہیں اور کیا نیکیاں ہیں جو میں نے کرنی ہیں۔باقی یہ بھی ہے کہ ایک شخص آیا اس نے آنحضرت ام سے کہا کہ میں اتنا نیک نہیں ہوں ، میرے میں بہت ساری برائیاں ہیں۔آپ مجھے ایک برائی بتا دیں جو میں چھوڑ دوں، باقی میں ابھی نہیں چھوڑ سکتا۔تو آنحضرت ا نے فرمایا اچھا تم یہ عہد کر لو کہ تم نے جھوٹ نہیں بولنا ، ہمیشہ سچ بولنا ہے۔جب اس نے ہمیشہ سچ بولنے کا ارادہ کیا تو ہر دفعہ جب کوئی برائی کرنے لگتا تھا تو اسے خیال آتا تھا کہ اگر آنحضرت ام نے پوچھا کہ تم نے یہ برائی کی ہے تو اگر میں سچ بولوں گا تو شرمندگی ہو گی ، جھوٹ بولوں گا تو میں نے وعدہ کیا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔اس طرح آہستہ آہستہ اس کی ساری برائیاں ختم ہو گئیں۔تو انسان کو خود دیکھنا چاہیئے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا ہے۔اس لئے انسان کو جائزہ لینا چاہیے کہ میں نے چھوٹی سے چھوٹی بات پہ بھی جھوٹ نہیں بولنا کیونکہ یہ شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کو شرک نا پسند ہے۔تو یہ بہت ساری باتیں ہیں جو ہر ایک کے حالات کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے خود جائزہ لے لیں کہ کیا کمی ہے۔لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ اللہ کا حق ادا کرو اور بندوں کا حق ادا کرو اور جب کوئی کام کرنے لگو تو یہ دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔جب یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے، میرے ہر کام کو دیکھ رہا ہے تو پھر انسان برائی سے رُکے گا اور نیکیاں کرے گا۔(قسط نمبر 19، الفضل انٹر نیشنل 20 اگست 2021ء صفحہ 11) 92