بنیادی مسائل کے جوابات — Page 93
پلاسٹک وغیرہ کی ٹوپیاں مساجد میں رکھنا سوال: نارووال پاکستان سے ایک معلم صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تحریر کیا کہ پلاسٹک وغیرہ کی ٹوپیاں مساجد میں رکھنا اور انہیں پہن کر نماز پڑھنا بدعت اور ناپسندیدہ عمل ہے یا نہیں؟ نیز نماز فجر کے فوراً بعد جب کہ درس قرآن ہو رہا ہو فجر کی سنتیں پڑھنا درست ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب قرآن کریم پڑھا جا رہا ہو تو اسے توجہ اور خاموشی سے سننا چاہیے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 مارچ 2022ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: مساجد میں حسب توفیق مناسب اور صاف ستھرا لباس پہن کر جانا چاہیئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں زینت کے سامان اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔(سورۃ الاعراف:32) اس حکم میں دلوں کی روحانی صفائی کے ساتھ ساتھ کپڑوں اور بدن کی ظاہری صفائی بھی شامل ہے۔اس لئے جہاں تک ممکن ہو مساجد میں جاتے وقت مناسب لباس زیب تن کرنا چاہیئے اور مناسب لباس میں سر کو ڈھانپنا بھی شامل ہے۔اسلام کے ہر دور میں بزرگان امت کا عمامہ ، پگڑی یا ٹوپی کے ساتھ سر ڈھانپنا ان کی عام عادت رہی ہے۔احادیث میں بھی مختلف صحابہ سے مروی ہے کہ حضور ا عمامہ کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ام فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔اسی طرح حضرت عمرو بن حریث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ لی لی تم نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔(صحیح مسلم کتاب الحج باب جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَاءٍ) پس مسجد میں پلاسٹک یا کپڑے وغیرہ کی کچھ صاف ستھری ٹوپیاں اس لئے رکھنا کہ اگر کوئی نمازی اپنی مرضی سے انہیں استعمال کرنا چاہے تو کر لے تو ایسا کرنے میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں، بلکہ ایک اچھی بات کی طرف ترغیب کی کوشش ہے۔بعض لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ننگے سر نماز نہ پڑھیں ، انہیں اگر مسجد میں اس طرح ٹوپیوں کی سہولت مل جائے تو وہ خوشی سے اسے 93